ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 261

کو الہام ہوتا ہے۔مجھ کو خواب تک نہیں آتی۔آپ دعا کریں کہ مجھ کو بھی الہام ہوا کریں کیونکہ میری عمر کا ایک بہت بڑا حصہ اس میں گذرا ہے۔اس لیے کوئی ایسی بات بتا ئیں جس سے میری مراد پوری ہو جاوے۔اس پر جو حضرت صاحب نے حکم تحریر کیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ناظرین رسالہ ہذا بھی اس سے مطلع کئے جاویں۔کیونکہ یہ اس امام برحق کے الفاظ ہیں جس کا ایک ایک لفظ ہمارے لیے جواہرات سے بڑھ کر قیمت رکھتا ہے۔(ایڈیٹر تشحیذ) حضرتؑنے جواب دیا۔السلام علیکم۔الہام خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔بندہ کی الہام میں فضیلت نہیں۔بلکہ اعمالِ صالحہ میں فضیلت ہے اور اس میں کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے۔سو نیک کاموں میں کوشش چاہیے تاکہ موجب نجات ہو۔والسلام مرزا غلام احمد مسیح موعود کے لیے نمازیں جمع کی جائیں گی چونکہ کچھ مدت سے حضرت کی طبیعت دن کے دوسرے حصہ میں اکثر خراب ہوجاتی ہے اس لیے نماز مغرب اور عشاء گھر میں باجماعت پڑھ لیتے ہیں۔باہر تشریف نہیں لا سکتے۔ایک دن نماز مغرب کے بعد چند عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا جو سننے کے قابل ہے۔(ایڈیٹر تشحیذ) فرمایا کہ کوئی یہ نہ دل میں گمان کر لے کہ یہ روز گھر میں جمع کر کے نماز پڑھا دیتے ہیں اور باہر نہیں جاتے۔یہ نبی کریمؐنے پیشگوئی کی کہ آنے والا شخص نماز جمع کیا کرے گا۔سو چھ مہینہ تک تو باہر جمع کرواتا رہا ہوں اب میں نے کہا کہ عورتوں میں بھی اس پیشگوئی کو پورا کر دینا چاہیے۔چونکہ بغیر ضرورت کے نماز جمع کرنا ناجائز ہے اس لیے خدا نے مجھ کو بیمار کر دیا اور اس طرح سے نبی کریمؐ کی پیشگوئی کو پورا کر دیا۔ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ آنحضرتؐکے قول کو پورا کرے۔کیونکہ وہ پورا نہ ہو تو آنحضرتؐنعوذباللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔اس لیے ہر ایک کو وہ بات جو اس کے اختیار میں ہو نبی کریمؐکے کہنے کے موافق پوری کر دینی چاہیے اور خدا خود بھی سامان مہیا کر دیتا ہے جیسا کہ مجھ کو بیمار