ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 219

اعتراض کرتے اور بہانہ بناتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔احمق اتنا نہیں جانتے کہ جس حدیث نے اپنے آپ کو سچا کر دیا ہے وہ کیسے جھوٹ ہو سکتی ہے۔محدثین کے اصول پر سچی اور صحیح حدیث تو وہی ہے جو اپنی سچائی آپ ظاہر کر دے۔اگر یہ حدیث ضعیف ہوتی تو پھر پوری کیوں ہوتی؟ دو مرتبہ کسوف خسوف ہوا۔اس ملک میں بھی اور امریکہ میں بھی۔اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو پھر اس کی مثال پیش کریں کہ کسی اور کے زمانہ میں بھی ہوا ہو؟ یہ حدیث اہلِ سنّت اور شیعہ دونوں کےہاں کتابوں میں موجود ہے۔پھر اس سے انکار کیونکر کیا جاسکتا ہے۔یہ آسمان کا نشان تھا۔زمین کا نشان طاعون اور زمین کا نشان وہ ہے جو طاعون کی صورت میں نمودار ہوا قرآن شریف میں آیا ہے وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا(بنی اسـرآءیل:۵۹) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب قیامت قریب آجائے گی تو عام طور پر موت کا دروازہ کھولا جاوے گا اور یہ حدیث کسوف خسوف کی قرآن شریف سے بھی صحیح ثابت ہوچکی ہے۔طاعون کے متعلق شیعہ کی کتابوں میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ ایسی طاعون ہوگی کہ جہاں دس آدمی ہوں گے ان میں سے سات مر جاویں گے۔اور حقیقت میں یہ ایسی بلا ہے کہ خاندانوں کے خاندان اس سے مٹ گئے اور بے نام و نشان ہوگئے۔کون جانتا ہے کل کیا ہوگا؟ اس قدر سردی کی شدت میں طاعون ترقی کر رہی ہے۔امرت سر میں زور شور ہے۔ایسی حالت میں کوئی کیا امید کر سکتا ہے۔جبکہ موت کا بازار گرم ہے تو کیا املاک اور جائیدادیں سر پر اٹھا کر لے جاؤگے؟ ہرگز نہیں۔پھر اگر ان نشانات کو دیکھ کر بھی تبدیلی نہیں کرتے تو کیونکر کہہ سکتے ہو کہ خدا پر ایمان ہے۔اسلام کی ترقی کے لئے اپنے مالوں کو خرچ کرو ہم اپنے نفس کے لیے کچھ نہیں چاہتے۔بارہا یہ خیال کیا ہے کہ