ملفوظات (جلد 8) — Page 220
اپنے گذارہ کے لیے تو پانچ سات روپیہ ماہوار کافی ہیں اور جائیداد اس سے زیادہ ہے۔پھر میں جو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا کے حکم سے ہے کیونکہ اسلام اس وقت تنزل کی حالت میں ہے۔بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہوجاتی ہے۔اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے۔پہلے تو صرف عیسائیوں ہی کا شکار ہو رہا تھا۔مگر اب آریوں نے اس پر دانت تیز کیے ہیں اور وہ بھی چاہتے ہیںکہ اسلام کا نام و نشان مٹا دیں۔جب یہ حالت ہوگئی ہے تو کیا اب اسلام کی ترقی کے لیے ہم قدم نہ اٹھائیں؟ خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لیے توا س سلسلہ کو قائم کیا ہے۔پس اس کی ترقی کے لیے سعی کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشا کی تعمیل ہے۔اس لیے اس راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ سمیع و بصیر ہے۔یہ وعدے بھی اس اللہ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص خدا کے لیے دے گا میں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔دنیا ہی میں اسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر آرام میسر آتا ہے۔غرض اس وقت میں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرو۔اسی مطلب کے لیے یہ گفتگو ہے۔اس وقت جیسا کہ میں شائع کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تیری وفات کا وقت قریب ہے جیسا کہ اس نے فرمایا قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔اس وحی سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا ذکر باقی نہ رہنے دے گا جو کسی قسم کی نکتہ چینی اور خزی کا باعث ہو۔انبیاء و رسل پر اعتراضات دشمن بد اندیش اورمریض قلب والوں کے لیے بہت سی باتیں ہوتی ہیں اور انبیاء و رسل کی تو قسمت ہی میں اعتراض ہوتے ہیں۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کس قدر اعتراض ہوئے اور اب تک کیے جاتے ہیں۔کیا کسی معمولی زندگی کے انسان پر بھی کئے جاتے ہیں؟ کبھی نہیں۔صدہا انسان ایسے ہوں گے جو معمولی زندگی کے انسان کی تعریف کریں گے۔مگر جب انبیاء و رسل کا ذکر آئے گا تو وہاں اعتراض کے لیے زبان کھولیں گے۔بات کیا ہے کہ انبیاء و رسل پر اس قدر اعتراض ہوئے ہیں؟ اصل یہ ہے