ملفوظات (جلد 8) — Page 218
میں نے سنا ہے کہ طاعون کے زور کے دنوں میں ایک جگہ ایک بڑا متمول ہندو مر گیا۔مرتے وقت اس نے اپنے مال و دولت کی کنجیاں اپنے بھائی کو دیں وہ بھی مر گیا۔اور اس طرح پر ان کا سارا خاندان تباہ ہوگیا اور آخری شخص نے مرتے وقت وہاں کے ایک زمیندار کو کنجیاں پیش کیں اس نے انکار کر دیا کہ میں کیا کروں گا۔بالآخر وہ مال داخل خزانہ سرکار ہوا۔یہ سچی بات ہے کہ جب خوف کے دن آتے ہیں تو بڑے بڑے پاجی اور خبیث لوگ بھی صدقات اور خیرات کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔اس وقت یہ باتیں کام نہیں آتی ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک چکا ہوتا ہے۔لیکن جو شخص عذاب کے آنے سے پہلے خدا تعالیٰ سے ڈرتا اور اس سے صلح کرتا ہے وہ بچا لیا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے یہی دن ہیں۔میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جس قدر اپنی ہستی کا ثبوت مجھے دیا ہے میرے پاس الفاظ نہیں جن میں میں اسے ظاہر کر سکوں۔وہی خدا ہے جس نے براہین کے زمانہ میں ان تمام امور کی جو آج تم دیکھ رہے ہو خبر دی۔ان ہندوؤں سے جو ہمارے جدّی دشمن ہیں پوچھ لو کہ اس زمانہ میں اس جلوہ قدرت کا کہاں نشان تھا پھر جب وہ ساری باتیں پوری ہوچکی ہیں۔پھر جو باتیں آج وہ بتاتا ہے وہ کیونکر پوری نہ ہوں گی؟ اس خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب خطرناک وقت آنے والا ہے۔زلازل آئیں گے اور موتوں کے دروازے کھل جاویں گے۔پس اس سے پہلے کہ وہ خطرناک گھڑی آجاوے اور موت اپنا منہ کھول کر حملہ شروع کر دے تم نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کو خوش کر لو۔کسوف و خسوف والی حدیث کی صداقت میں یہ بھی تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس زمانہ کی تمام نبیوں نے خبر دی ہے۔یہ آخری ہزار کا زمانہ آگیا ہے اور دیکھو یہ وہ وقت ہے جس کے لیے گیارہ سو برس پہلے کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مہدی کے وقت رمضان میں کسوف خسوف ہوگا اور آدم سے لے کر اس وقت تک کبھی یہ نشان ظاہر نہیں ہوا۔وہ نشان تم نے دیکھ لیا۔پھر یہ کیسی قابل غور بات ہے۔بعض جاہل