ملفوظات (جلد 8) — Page 217
خوش قسمت ہے وہ انسان جو ریا سے بچے جو شخص خدا تعالیٰ سے پوشیدہ طور پر صلح کر لیتا ہے۔خدا تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ جو کام تم چھپ کر خدا کے لیے کرو گے وہ مخفی رہے گا۔ریا سے بڑھ کر نیکیوں کا دشمن کوئی نہیں۔ریا کار کے دل میں کبھی ٹھنڈ نہیں پڑتی ہے۔جب تک کہ پورا حصہ نہ لے لے۔مگر ریا ہر مال کو جلا دیتی ہے اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔خوش قسمت وہ ہے انسان جو ریا سے بچے اور جو کام کرے وہ خدا کے لیے کرے۔ریاکاروں کی حالت عجیب ہوتی ہے۔خدا کے لیے جب خرچ کرنا ہو تو وہ کفایت شعاری سے کام لیتا ہے۔لیکن جب ریا کا موقع ہو تو پھر ایک کی بجائے سو دیتا ہے اور دوسرے طور پر اسی مقصد کے لیے دو کا دینا کافی سمجھتا ہے۔اس لیے اس مرض سے بچنے کی دعا کرتے رہو۔جو لوگ اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سمیع اور بصیر ہے وہ ان باتوں کی پروا نہیں کرتے۔انہیں اس بات کی غرض ہی نہیں ہوتی کہ کوئی ان کے دیئے ہوئے مال کا ذکر بھی کرے۔دنیا مزرعہ آخرت ہے یعنی آخرت کی کھیتی ہے۔جو کچھ بنانا ہے اسی دنیا میں بناؤ۔جو شخص روحانی مال دولت اور جائیداد یہاں جمع کرے گا وہ خوشحال ہوگا۔ورنہ یہاں سے خالی ہاتھ جانا ہوگا اور بڑے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا۔اس وقت نہ مال کام آئے گا نہ اولاد اور نہ دوسرے عزیز جن کے لیے دین کے پہلو کو چھوڑا تھا۔خدا کو راضی کرنے کے یہی دن ہیں اب یاد رکھو وہی خدا جس نے تیرہ سو برس پہلے اس زمانہ کی خبر دی تھی وہی خبر دیتا ہے کہ زمانہ قریب آگیا ہے اور بڑے بڑے حوادث ظاہر ہوں گے۔اگر ان نشانوں کا انتظار ہے اور ان کے بعد جوش پیدا ہوا تو اس کا ثواب ایسا نہ ہوگا جیسا آج ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس وقت اگر کوئی ایمان پیش کرے گا تو ذرہ برابر اس کی قدر نہ ہوگی کیونکہ اس وقت تو کافر سے کافر بھی سمجھ لے گا کہ دنیا فانی ہے۔