ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 216

تنہائی اور تخلیہ کو عزیز رکھتا ہے۔۱ غرض بدیوں کے ترک پر اس قدر ناز نہ کرو۔جب تک نیکیوں کو پورے طور پر ادا نہ کرو گے اور نیکیاں بھی ایسی نیکیاں جن میں ریا کی ملونی نہ ہو اس وقت تک سلوک کی منزل طے نہیں ہوتی۔یہ بات یاد رکھو کہ ریا حسنات کو ایسے جلا دیتی ہے جیسے آگ خس و خاشاک کو۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس مرد سے بڑھ کر مردِ خدا نہ پاؤ گے جو نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی پر ظاہر نہ ہو۔ایک بزرگ کی حکایت لکھی ہے کہ اسے کچھ ضرورت تھی۔اس نے وعظ کہا اور دورانِ وعظ میں یہ بھی کہا کہ مجھے ایک دینی ضرورت پیش آگئی ہے۔مگر اس کے واسطے روپیہ نہیں ہے۔ایک بندہ خدا نے یہ سن کر دس ہزار روپیہ رکھ دیا۔اس بزرگ نے اٹھ کر اس کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ یہ شخص بڑا ثواب پائے گا۔جب اس شخص نے ان باتوں کو سنا تو وہ اٹھ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور کہا کہ یا حضرت مجھ سے اس روپیہ کے دینے میں بڑی غلطی ہوئی۔وہ میرا مال نہ تھا بلکہ میری ماں کا مال ہے۔اس لیے وہ واپس دے دو۔اس بزرگ نے تو اسے روپیہ دے دیا مگر لوگوں نے بڑی لعن طعن کی اور کہا کہ یہ اس کی اپنی بد نیتی ہے۔معلوم ہوتا ہے پہلے وعظ سن کر جوش میں آگیا اور روپیہ دے دیا اور اب اس روپیہ کی محبت نے مجبور کیا تو یہ عذر بنا لیا ہے۔غرض وہ روپیہ لے کر چلا گیا اور لوگ اسے بُرا بھلا کہتے رہے اور وہ مجلس برخواست ہوئی۔جب آدھی رات گذری تو وہی شخص روپیہ لئے ہوئے اس بزرگ کے گھر پہنچا اور آکر انہیں آواز دی۔وہ سوئے ہوئے تھے انہیں جگایا اور وہی دس ہزار روپیہ رکھ دیا اور کہا حضرت میں نے یہ روپیہ اس وقت اس لیے نہیں دیا تھا کہ آپ میری تعریف کریں۔میری نیت تو اور تھی۔اب میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مرنے تک اس کا ذکر نہ کریں۔یہ سن کر وہ بزرگ رو پڑے۔اس نے پوچھا کہ آپ روئے کیوں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رونا اس لیے آیا ہے کہ تو نے ایسا اخفا کیا ہے کہ جب تک یہ لوگ رہیں گے تجھے لعن طعن کریں گے۔غرض وہ چلا گیا اور آخر خدا تعالیٰ نے اس امر کو ظاہر کر دیا۔۱ الحکم جلد ۱۰نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۶ءصفحہ ۳