ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 11

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔یہ سب الہامات ان کی موت کی خبر دیتے تھے لیکن ہم ان کی نسبت خیر چاہتے تھے۔اس لیے اپنے طور پر ان الہامات کو کسی اور مفہوم میں پورا ہونے کے خواہشمند تھے مگر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر وہی تھی جو صاف طور پر ان الہامات میں بتا دی گئی تھی اور آخر وہ پورے ہوگئے۔ان الہامات پر غور کر کے مجھے ایک نکتہ سمجھ میں آیا ہے کہ جب مرض الموت کا وقت آجاوے تو وہ وقت دعا کا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ کو ظاہر کر دیتا ہے۔اسی طرح پر جو حالتیں مہلک بیماریوں کی ہوتی ہیں ان میں بھی نتیجہ نظر آجاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ مولوی صاحب کے معاملہ میں ایک عجیب بات دیکھی گئی کہ ان کی اصل مرض سرطان جس کو انگریزی میں کار بنکل کہتے ہیں بالکل اچھا ہو گیا بلکہ خود انہوں نے ہاتھ پھیر کر دیکھا اور یہی کہتے تھے کہ اب میں دو چار روز میں پھرنے لگوں گا۔آخر ذات الجنب کی وجہ سے سخت بخار ہوگیا جو ۱۰۶ درجہ تک پہنچ گیا اور اسی عارضہ میں وفات پائی۔۵۱ دن تک وہ اس بیماری میں زندہ رہے۔یہ زیادتِ ایام بھی استجابت دعا پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس مرض سے ان کو آخر نجات دے دی۔رہی موت اس سے تو نہ کوئی بچا ہے نہ بچ سکتا ہے۔ان کی بیوی نے بتایا کہ وہ کہتے تھے کہ کئی مرتبہ خدا بلانے آیا ہے مگر تاخیر ہی ہوتی رہی۔خدا تعالیٰ کا تردّد اصل بات یہ ہے کہ یہ وہی تردّد ہے جس کا ذکر صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے مومن کی جان لینے میں تردّد ہوتا ہے۔میں نے باوجودیکہ ان کی وفات کے متعلق الہامات ہوچکے تھے بہت دعا کی تو الہام ہوا تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا پھر یہ بھی الہام ہوا يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب انتہا درجہ تک کسی کا وجود ضروری سمجھا جاتا ہے تو وہ معبود ہوجاتا ہے اور یہ صرف خدا تعالیٰ ہی کا وجود ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔کسی انسان یا اور مخلوق کے لیے ایسا نہیں کہہ سکتے۔چند الہامات پھر فرمایا۔پرسوں الہام ہوا تھا اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَرُوْمُ مَا یَرُوْمُ وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ اور آج کا الہام یہ ہے تَاْتِیْکَ وَاَنَا مَعَکَ یہ الہام بخیر و عافیت سفر سے واپس آنے کی خبر دیتا ہے۔۱ ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴،۵