ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 10

چلے جائیں گے مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی روانگی کے متعلق اللہ تعالیٰ کے حضور مسنون طریقہ پر استخارہ کیا تو الہام ہوا لَا تَقُوْمُوْا وَلَا تَقْعُدُوْا اِلَّا مَعَہٗ لَا تَرُدُّوْا مَوْرِدًا اِلَّا مَعِیَ۔اِنِّیْ مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ۔ان الہامات کی وجہ سے ضروری ہوا کہ حضرت صاحب بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ دہلی جائیں اور جب حضور نے تشریف لے جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو آپ کے حکم اور اجازت سے چند خدام بھی ساتھ ہوئے۔عاجز راقم کی طبیعت بیمار تھی چند روز بخار آتا رہا ہے۔مگر حضور نے فرمایا کہ چلے چلو۔تبدیل آب و ہوا سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔۲۲؍اکتوبر بروز یک شنبہ کی صبح کو قادیان سے روانہ ہوئے۔روانگی سے پیشتر آپ نے فرمایاکہ آج رات ایک رؤیا اور ایک الہام ہوا۔رؤیا دیکھا کہ دہلی گئے ہیں تو تمام دروازے بند ہیں۔پھر دیکھا کہ کوئی شخص کچھ تکلیف دینے والی شے میرے کان میں ڈالتا ہے۔میں نے کہا تم مجھے کیا دُکھ دیتے ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ دُکھ دیا گیا تھا۔‘‘ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی والوں کے دلوں پر ایسے قفل لگے ہوئے ہیں کہ ان پر کوئی نیک اثر نہیں ہوتا اور ہر طرح کی بد زبانی ہم ان لوگوں سے وہاں سنیں گے۔۱ (بمقام ریلوے اسٹیشن امرتسر) حضرت مولوی عبد الکریمؓ کی وفات کے متعلق الہامات باتوں ہی باتوں میں حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ آگیا۔فرمایا۔بڑے ہی مخلص اور قابل قدر انسان تھے مگر اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی تھی۔اگرچہ بشریت کے لحاظ سے صدمہ ہوتا ہے مگر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر خوش ہیں۔اس نے ہماری تسلی کے لیے پہلے سے ہی بتا دیا تھا کہ اب مولوی صاحب ہم سے الگ ہوں گے۔چنانچہ اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا ان کی بابت الہام ہو چکا تھا اور پھر کفن میں لپیٹا گیا اور پھر صاف طور پر ۴۷برس کی عمر۔۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲