ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 12

۲۴؍اکتوبر۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) ایک رؤیا صبح حضرت نے فرمایا کہ آج رات میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تھوڑے سے چنے بھونے ہوئے سفید ہیں اور ان کے ساتھ ہی منقّہ بھی ہے۔فرمایا۔ہمارا تجربہ ہے کہ چنے، مولی، بینگن یا پیاز خواب میں دیکھیں تو کوئی امر مکروہ پیش آتا ہے لیکن منقّہ دل کو قوت دینے والی شے ہے اور اس کا دیکھنا اچھا ہے۔اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی امر مکروہ چھوٹا یا بڑا در پیش ہے جو منقّہ کی آمیزش سے وہ کراہت جاتی رہے گی۔تنگی کے بعد فراخی آتی ہے فرمایا۔انسان کی زندگی کے ساتھ مکروہات کا سلسلہ بھی لگا ہوا ہے۔اگر انسان چاہے کہ میری ساری عمر خوشی میں گذرے تو یہ ہو نہیں سکتا۔فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (اَ لَمْ نَشْـرَحْ:۶،۷) یہ زندگی کا چکر ہے۔جب تنگی آوے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے بعد فراخی بھی ضرور آئے گی۔۱ زیارت قبور صبح حضرت مسیح موعود مردانہ مکان میں تشریف لائے۔دہلی کے سیر کا ذکر درمیان میں آیا۔فرمایا۔لہو و لعب کے طور پر پھرنا تو درست نہیں۔البتہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں ان پر ہم بھی جائیں گے۔۱ الحکم سے۔’’اور اصل بات یہ ہے کہ تنگیوں اور تکلیفوں کا زمانہ ہی انسان کو انسان اور بندہ بناتا ہے ورنہ اگر کوئی غم ہمّ نہ ہو تو انسان خدا سے بالکل دور چلا جاوے۔مومن کی شان اس سے نرالی ہے وہ جس جس قدر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو دیکھتا اور اس کے انعامات کو پاتا ہے اسی قدر وہ اس کے قریب ہوتا ہے اور اپنی وفاداری اور اخلاق و اخلاص میں زیادہ ترقی کرتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۱۰نمبر ۸ مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ )