ملفوظات (جلد 8) — Page 180
کبھی اسے قبول ہی نہیں کر سکتی۔اگر درمیان دنیا نہ ہوتی تو عیسائیوں کا گروہ کثیر آج مسلمان ہوجاتا۔بعض لوگ عیسائیوں میں مخفی مسلمان رہے ہیں اور انہوں نے اپنے اسلام کو چھپایا ہے لیکن مرنے کے وقت اپنی وصیت کی اور اسلام ظاہر کیا ہے۔ایسے لوگوں میں بڑے بڑے عہدہ دار تھے۔انہوں نے حُبِّ دنیا کی وجہ سے زندگی میں اسلام کو چھپایا لیکن آخر انہیں ظاہر کرنا پڑا۔میں دیکھتا ہوں کہ ان دلوں میں اسلام نے راہ بنا لیا ہے اور اب وہ ترقی کر رہا ہے۔حُبِّ دنیا نے لوگوں کو محجوب کر رکھا ہے۔غرض مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حُبِّ دنیا ہی ہوئی ہے کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہوجاتے۔اب جبکہ حُبِّ دنیا کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جاسکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰلِ عـمران:۳۲) یعنی کہو اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔اب اس حُبُّ اللہ کی بجائے اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُبُّ الدنیا کومقدم کیا گیا ہے۔کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا دار تھے؟ کیا وہ سود لیا کرتے تھے؟ یا فرائض اور احکام الٰہی کی بجا آوری میں غفلت کیا کرتے تھے؟ کیا آپ میں (معاذ اللہ) نفاق تھا، مداہنہ تھا؟ دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے؟ غور کرو۔اتباع تو یہ ہے کہ آپ کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔صحابہؓ نے وہ چلن اختیار کیا تھا۔پھر دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچایا۔انہوں نے دنیا پر لات مار دی تھی اور بالکل حُبِّ دنیا سے الگ ہوگئے تھے۔اپنی خواہشوں پر ایک موت وارد کر لی تھی۔اب تم اپنی حالت کا ان سے مقابلہ کر کے دیکھ لو۔کیا انہیں کے قدموں پر ہو؟ افسوس اس وقت لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ ان سے کیا چاہتا ہے۔رَأْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ نے بہت سے بچے دے دیئے ہیں کوئی شخص عدالت میں جاتا ہے تو