ملفوظات (جلد 8) — Page 181
۲آنے لےکر جھوٹی گواہی دے دینے میں ذرا شرم و حیا نہیں کرتا۔کیا وکلاء قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ سارے کے سارے گواہ سچے پیش کرتے ہیں۔آج دنیا کی حالت بہت نازک ہوگئی ہے۔جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔جھوٹے مقدمہ کرنا تو بات ہی کچھ نہیں جھوٹے اسناد بنا لیے جاتے ہیں۔کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو اِجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الـحج:۳۱) بُت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق و راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بُت بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بُت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بُت پرست بُت سے نجات چاہتا ہے جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بُت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بُت پرست ہوتے ہو اس نجاست کو چھوڑ دو تو کہتے ہیں کہ کیونکر چھوڑ دیں اس کے بغیر گذارہ نہیں ہو سکتا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہوگی جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔سچائی کی برکت مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک مرتبہ امرتسر ایک مضمون بھیجا۔اس کے ساتھ ہی ایک خط بھی تھا۔رلیا رام کے وکیل ہند اخبار کے متعلق تھا۔میرے اس خط کو خلافِ قانون ڈاکخانہ قرار دے کر مقدمہ بنایا گیا۔وکلاء نے یہی کہا کہ اس میں بجز اس کے رہائی نہیں جو اس خط سے انکار کر دیا جاوے۔گویا جھوٹ کے سوا بچاؤ نہیں۔مگر میں نے اس کو ہرگز پسند نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ اگر سچ بولنے سے سزا ہوتی ہے تو ہونے دو جھوٹ نہیں بولوں گا۔آخر وہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ڈاک خانوں کا افسر بہ حیثیت مدعی حاضر ہوا۔مجھ سے جس وقت اس کے متعلق پوچھا گیا تو میں نے صاف طور پر کہا کہ یہ میرا خط ہے مگر میں نے اس کو جزوِ مضمون سمجھ کر اس میں رکھا