ملفوظات (جلد 8) — Page 179
کرنے لگتا ہے۔ہر قسم کی بد عملی اور بد کاری کو جائز سمجھ لیا گیا ہے اور ہر قسم کے منہیات پر کھلم کھلا زور دیا جاتا ہے دین بالکل بیکس اوریتیم ہو رہا ہے۔ایسی صورت میں اگر اسلام کی تائید اور نصرت نہ فرمائی جاتی تو اور کون سا وقت اسلام پر آنے والا ہے جو اس وقت مدد کی جاوے۔اسلام تو صرف نام کو باقی رہ گیا۔اب بھی اگر حفاظت نہ کی جاتی تو پھر اس کے مٹنے میں کیا شبہ ہو سکتا تھا۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ صرف قلّتِ تدبّر کا نتیجہ ہے جو کہا جاتا ہے کہ دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ حُبّ دنیا کا فتنہ اگر صرف ایک ہی بات ہوتی تو اس قدر محنت اٹھانے کی کیا حاجت تھی۔ایک سلسلہ قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بار بار ظاہر کر چکا ہے کہ ایسی تاریکی چھا گئی ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا۔وہ توحید جس کا ہمیں فخر تھا اور اسلام جس پر ناز کرتا تھا وہ صرف زبانوں پر رہ گئی ہے ورنہ عملی اور اعتقادی طور پر بہت ہی کم ہوں گے جو توحید کے قائل ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا دنیا کی محبت نہ کرنا۔مگر اب ہر ایک دل اسی میں غرق ہے اور دین ایک بیکس اور یتیم کی طرح رہ گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر فرمایا تھا حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ۔یہ کیسا پاک اور سچا کلمہ ہے۔مگر آج دیکھ لو ہر ایک اس غلطی میں مبتلا ہے۔ہمارے مخالف آریہ اور عیسائی اپنے مذاہب کی حقیقت کو خوب سمجھ چکے ہیں۔لیکن اب اسے نباہنا چاہتے ہیں۔عیسائی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے مذہب کے اصول و فروع اچھے نہیں۔ایک انسان کو خدا بتانا ٹھیک نہیں۔اس زمانہ میں فلسفہ، طبعی اور سائنس کے علوم ترقی کر گئے ہیں اور لوگ خوب سمجھ گئے ہیں کہ مسیح بجز ایک ناتواں اور ضعیف انسان ہونے کے سوا کوئی اقتداری قوت اپنے اندر نہ رکھتا تھا اور یہ ناممکن ہے کہ ان علوم کو پڑھ کر خود اپنی ذات کا تجربہ رکھ کر اور مسیح کی کمزوریوں اور ناتوانیوں کو دیکھ کر یہ اعتقاد رکھیں کہ وہ خدا تھا۔ہرگز نہیں۔شرک عورت سے شروع ہوا ہے اور عورت سے اس کی بنیاد پڑی ہے یعنی حوا سے جس نے خدا تعالیٰ کا حکم چھوڑ کر شیطان کا حکم مانا۔اور اس شرک عظیم یعنی عیسائی مذہب کی حامی بھی عورتیں ہی ہیں۔درحقیقت عیسائی مذہب ایسا مذہب ہے کہ انسانی فطرت دور سے اس کو دھکے دیتی ہے اور وہ