ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 178

ہے اور اس کی تائید اور استعمال کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور تائید سے اس موتِ مسیح کے ہتھیار نے صلیبی مذہب کو جس قدر کمزور اور سست کر دیا ہے وہ اب چھپی ہوئی بات نہیں رہی۔عیسائی مذہب اور اسکے حامی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی فرقہ اور سلسلہ ان کے مذہب کو ہلاک کر سکتا ہے تو وہ یہی سلسلہ ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر یک اہل مذہب سے مقابلہ کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں مگر اس سلسلہ کے مقابلہ میں نہیں آتے۔بشپ صاحب کو جب مقابلہ کی دعوت کی گئی تو ہر چند اس کو بعض انگریزی اخباروں نے بھی جوش دلایا مگر پھر بھی وہ میدان میں نہیں نکلا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے پاس عیسائیت کے استیصال کے لیے وہ ہتھیار ہیں جو دوسروں کو نہیں دیئے گئے اور ان میں سے پہلا ہتھیار یہی موتِ مسیح کا ہتھیار ہے۔موت اصلی غرض نہیں۔یہ تو اس لیے کہ عیسائیوں کا ہتھیار تھا جس سے اسلام کا نقصان تھا۔اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس غلطی کا تدارک کرے۔چنانچہ بڑے زور کے ساتھ اس کی اصلاح کی گئی۔سلسلہ کے قیام کا ایک اور مقصد اس کے علاوہ ان غلطیوں اور بدعات کو دور کرنا بھی اصل مقصد ہے جو اسلام میں پیدا ہوگئی ہیں۔یہ قلّتِ تدبّر کا نتیجہ ہے۔اگر یہ کہا جاوے کہ اس سلسلہ میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔اگر موجودہ مسلمانوں کے معتقدات میں کوئی فرق نہیں آیا اور دونوں ایک ہی ہیں تو پھر کیا خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو عبث قائم کیا؟ ایسا خیال کرنا اس سلسلہ کی سخت ہتک اور اللہ تعالیٰ کے حضور ایک جرأت اور گستاخی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بار بار ظاہر کیا ہے کہ دنیا میں بہت تاریکی چھا گئی ہے۔عملی حالت کے لحاظ سے بھی اور اعتقادی حالت کی وجہ سے بھی۔وہ توحید جس کے لیے بے شمار نبی اور رسول دنیا میں آئے اور انہوں نے بے انتہا محنت اور سعی کی آج اس پر ایک سیاہ پردہ پڑا ہوا ہے اور لوگ کئی قسم کے شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دنیا کی محبت نہ کرو۔مگر اب دنیا کی محبت ہر ایک دل پر غلبہ کر چکی ہے اور جس کو دیکھو اسی محبت میں غرق ہے۔دین کے لیے ایک تنکا بھی ہٹانے کے واسطے کہا جاوے تو وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے اور ہزاروں عذر اور بہانے