ملفوظات (جلد 8) — Page 177
کا یہی ہتھیار حیات مسیح ہے جس کو لے کر وہ اسلام پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کی ذرّیت عیسائیوں کا شکار ہو رہی ہے۔میںسچ سچ کہتا ہوں کہ ایسے ہی مسائل وہ لوگوں کو سنا سنا کر برگشتہ کر رہے ہیں اور وہ خصوصیتیں جو نادانی سے مسلمان ان کے لیے تجویز کرتے ہیں سکولوں اور کالجوں میں پیش کرکے اسلام سے جدا کر رہے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاوے۔۱ پس اس وقت چاہا ہے کہ مسلمان متنبہ ہوجاویں کہ ترقی اسلام کے لیے یہ پہلو نہایت ہی ضروری ہے کہ مسیح کی وفات کے مسئلہ پر زور دیا جاوے اور وہ اس امر کے قائل نہ ہوں کہ مسیح زندہ آسمان پر گیا ہے۔مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے مخالف اپنی بد قسمتی سے اس سِر کو نہیں سمجھتےاور خواہ نخواہ شور مچاتے ہیں۔کاش یہ احمق سمجھتے کہ اگر ہم سب مل کر وفات پر زور دیں گے تو پھر یہ مذہب (عیسائی)نہیں رہ سکتا۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کی زندگی اس موت میں ہے۔خود عیسائیوں سے پوچھ کر دیکھ لو کہ جب یہ ثابت ہو جاوے کہ مسیح زندہ نہیں بلکہ مر گیا ہے تو ان کے مذہب کا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ وہ خود اس امر کے قائل ہیںکہ یہی ایک مسئلہ ہے جو ان کے مذہب کا استیصال کرتا ہے مگر مسلمان ہیں کہ مسیح کی حیات کے قائل ہو کر ان کو تقویت پہنچا رہے ہیں اور اسلام کو نقصان پہنچاتے ہیں ان کی وہی مثال ہے۔ع یکے بر سر شاخ و بُن مے برید صلیب کو توڑنے والا ہتھیار عیسائیوں کا جو ہتھیار اسلام کے خلاف تھا اسی کو ان مسلمانوں نے اپنے ہاتھ میں لیا۲ اور اپنی نا سمجھی اور کم فہمی سے چلا دیا جس سے اسلام کو اس قدر نقصان پہنچا۔مگر خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر اس سے ان کو آگاہ کر دیا اور ایسا ہتھیار عطا کیا جو صلیب کے توڑنے کے واسطے بے نظیر ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲،۳ ۲ بدر میں ہے۔’’تعجب ہے کہ عیسائی تو مسلمانوں کی گردن کاٹنے کے واسطے یہ ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور مسلمان بھی اپنی گردنیں کٹوانے کے واسطے ان کی امداد میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)