ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 176

ہے تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرتا ہے۔وفات مسیح کا مسئلہ ایک ثابت شدہ امر ہے غرض وفاتِ مسیح کا مسئلہ اب ایسا مسئلہ ہوگیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا اخفا نہیں رہا بلکہ ہر پہلو سے صاف ہوگیا ہے۔قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے احادیث وفات کی تائید کرتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ معراج موت کی تصدیق کرتا ہے اور آپ گویا چشم دید شہادت دیتے ہیں کیونکہ آپ نے شب معراج میں حضرت عیسیٰ کو حضرت یحییٰ کے ساتھ دیکھا۔اور پھر آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنی اسـرآءیل:۹۴) مسیح کو زندہ آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔کیونکہ جب کفار نے آپؐسے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہی جواب دیا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًایعنی میرا ربّ اس وعدہ خلافی سے پاک ہے جو ایک مرتبہ تو وہ انسان کے لیے یہ قرار دے کہ وہ اسی زمین میں پیدا ہوا اور یہاں ہی مرے گا فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيْهَا تَمُوْتُوْنَ (الاعراف:۲۶) میں تو ایک بشر رسول ہوں یعنی وہ بشریت میرے ساتھ موجود ہے جو آسمان پر نہیں جا سکتی۔اور دراصل کفار کی غرض اس سوال سے یہی تھی۔چونکہ وہ پہلے یہ سن چکے تھے کہ انسان اس دنیا میں جیتا اور مرتا ہے۔اس لیے انہوں نے موقع پاکر یہ سوال کیا جس کا جواب ان کو ایسا دیا گیا کہ ان کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔پس یہ طے شدہ مسئلہ ہے کہ مسیح وفات پا چکے۔ہاں یہ ایک معجزانہ نشان ہے کہ انہیں غفلت میں رکھا اور ہوشیاروں کو مست بنا دیا۔مسیح کی موت میں اسلام کی زندگی ہے یہ بھی یاد رکھو کہ جن لوگوں نے یہ زمانہ نہیں پایا وہ معذور ہیں۔ان پر کوئی حجت پوری نہیں ہوئی اور اس وقت اپنے اجتہاد سے جو کچھ وہ سمجھے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجر اور ثواب پائیں گے۔مگر اب وقت نہیں رہا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس نقاب کو اٹھا دیا اور اس مخفی راز کو ظاہر کر دیا ہے اور اس مسئلہ کے بُرے اور خوفناک اثروں کو تم دیکھ رہے ہو کہ اسلام تنزل کی حالت میں ہے اور عیسائیت