ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 162

سے محض ناواقف ہیں اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ جن قوموں میں تم اسے پہنچانا چاہو ان کی زبانوں کی پوری واقفیت ہو۔ان کی زبانوں کی واقفیت نہ ہو اور ان کی کتابوں کو پڑھ نہ لیا جاوے تو مخالف پورے طور پر عاجز نہیں ہو سکتا۔مولوی عبید اللہ صاحب مرحوم نے تحفۃ الہند نام ایک کتاب لکھی۔اندرمن نے اس کا جواب دیا اور بڑی گالیاں دیں۔اسلام پر اعتراض کر دیئے۔اگرچہ اس کی بعض کتابیں جلا دی گئی تھیں۔مگر انہیں اعتراضوں کو لے کر پنڈت دیانند صاحب نے پیش کر دیا۔اگر مولوی عبید اللہ صاحب نے وید پڑھے ہوتے تو وہ ویدوں سے ان کا جواب دیتے۔غرض زبان کا سیکھنا ضروری ہے۔۱ واقفین کی تعلیم و تربیت مجھے یہ بھی شبہ ہے کہ دماغی حالتیں کچھ اچھی نہیں ہیں۔بہت ہی کم ایسے لڑکے ہوتے ہیں جن کے قویٰ اعلیٰ درجہ کے ہوں۔ورنہ اکثر وںکو سِل یا دِق ہوجاتی ہے۔پس ایسے کمزور قویٰ کے لڑکے بہت محنت برداشت نہیں کر سکتے۔اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو اور بھی فکر دامنگیر ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف تو ہم ایسے لڑکے طیار کرنا چاہتے ہیں جو دین کے لیے اپنی زندگی وقف کریں اور وہ فارغ التحصیل ہو کر خدمتِ دین کریں مگر دوسری طرف اس قسم کے مشکلات ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ اس سوال پر بہت فکر کیا جاوے۔ہاں میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ جو بچے ہمارے اس مدرسہ میں آتے ہیں ان کا آنا بھی بے سود نہیں ہے۔ان میں اخلاص اور محبت پائی جاتی ہے اس لیے اس موجودہ صورت اور انتظام کو بدلنا بھی مناسب نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ قاعدہ ہونا چاہیے تھا کہ ان بچوں کو تعطیل کے دن مولوی سید محمد احسن صاحب یا مولوی حکیم نور الدین صاحب زبانی تقریروں کے ذریعہ ان کو قرآن شریف اور علم حدیث اور مناظرہ کا ڈھنگ سکھاتے اور کم از کم دو گھنٹہ ہی اس کام کے لیے رکھے جاتے۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ زبانی تعلیم ہی کا سلسلہ جاری رہا ہے اور طِبّ کی تعلیم بھی زبانی ہوتی آئی۔زبانی تعلیم سے طالب علموں ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲،۳