ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 163

کو خود بھی بولنے اور کلام کرنے کا طریق آجاتا ہے۔خصوصاً جبکہ معلّم فصیح و بلیغ ہو۔زبانی تعلیم سے بعض اوقات ایسے فائدے ہوتے ہیں کہ اگر ہزار کتاب بھی تصنیف ہوتی تو وہ فائدہ نہ ہوتا۔اس لیے اس کا التزام ضروری ہے۔تعطیل کے دن ضرور ان کو سکھایا جاوے۔پھر باقاعدہ ان کو قرآن شریف سنایا جاوے۔اس کے حقائق و معارف بیان کیے جاویں اور ان کی تائید میں احادیث کو پیش کیا جاوے۔عیسائی جو اعتراض اسلام پر کرتے ہیں ان کے جواب ان کو بتائے جاویں اور اس کے بالمقابل عیسائیوں کے مذہب کی حقیقت کھول کر ان کو بتائی جاوے تاکہ وہ اس سے خوب واقف ہو جاویں۔ایسا ہی دہریوں اور آریوں کے اعتراضات اور ان کے جوابات سے ان کو آگاہ کیا جاوے۔اور یہ سب کچھ سلسلہ وار ہو یعنی کسی ہفتہ کچھ اور کسی ہفتہ کچھ۔اگر یہ التزام کر لیا گیا تو میں یقیناً جانتا ہوں کہ بہت کچھ طیاری کر لیں گے۔نری عربی زبان کی واقفیت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب پیدا نہیں ہوئے تھے تو اس زبان نے عربوں کے اخلاق، عادات اورمذہب پر کیا اثر ڈالا؟ اور اب شام و مصر میں کیا فائدہ پہنچایا؟ ہاں یہ سچ ہے کہ عربی زبان اگر عمدہ طور سے آتی ہو تو وہ قرآن شریف کی خادم ہوگی اور انسان قرآن کریم کے حقائق و معارف خوب سمجھ سکے گا۔چونکہ قرآن اور احادیث عربی میں ہیں اس لیے اس زبان سے پورے طور پر باخبر ہونا بہت ہی ضروری ہوگیا ہے۔اگر عربی زبان سے واقفیت نہ ہو تو قرآن شریف اور احادیث کو کیا سمجھے گا؟ ایسی حالت میں تو پتہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ آیت قرآن شریف میں ہے بھی یا نہیں۔ایک شخص کسی پادری سے بحث کرتا تھا اس سے کہہ دیا کہ قرآن شریف میں جو آیا ہے لَوْلَاکَ لَمَا پادری نے جب کہا کہ نکال کر دکھاؤ تو بہت ہی شرمندہ ہونا پڑا۔سادہ ترجمہ پڑھ لینے سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا۔ان علوم کا جو قرآن شریف کے خادم ہیں واقف ہونا ضروری ہے۔اس طرح پر قرآن شریف پڑھایا جاوے اور پھر حدیث۔اور اسی طرح پر ان کو اس سلسلہ کی سچائی سے آگاہ کیا جاوے اور ایسی کتابیں طیار کی جاویں جو اس تقسیم کے ساتھ ان کے لیے مفید ہوں۔اگر یہ سلسلہ اس طرح پر جاری ہوجاوے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مقاصد کا بہت