ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 161

کرتے وہ جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے اس سے نکلتے ہیں اور فروعات میں آکر الجھ جاتے ہیں۔ایسے لوگ اس امر کی بھی پابندی نہیں کرتے کہ پہلے اپنے گھر کو دیکھ لیں کہ دوسرے مذہب پر جو اعتراض کرتا ہوں وہ میرے گھر میں تو کسی تعلیم پر وارد نہیں ہوتا بلکہ ان کی غرض محض اعتراض کرنا ہوتا ہے حق کو لینا نہیں ہوتا۔ایک آریہ پر اگر نیوگ کا اعتراض کرو تو وہ قبل اس کے کہ نیوگ کی حقیقت اور خوبی بیان کرے بلاسوچے سمجھے جھٹ اعتراض کر دے گا کہ تم میں متعہ ہے حالانکہ اوّل تو متعہ ہے ہی نہیں اور علاوہ بریں متعہ کی حقیقت تو اتنی ہے کہ وہ میعادی طلاق ہے۔طلاق کو نیوگ سے کیا نسبت اور کیا تعلق؟ جو شخص محض حصول اولاد کے لیے اپنی بیوی کو دوسرے سے ہمبستر کرواتا ہے وہ طلاق پر اعتراض کرے تو تعجب نہیں تو کیا ہے؟ واقفین زندگی کے لیے غیر زبانیں سیکھنے کی تلقین غرض اعتراض کرنے والوں کی یہ حالت ہے اور نہایت شوخی اور بیباکی کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے میں جب اسلام کی حالت کو مشاہدہ کرتا ہوں تو میرے دل پر چوٹ لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ ایسے لوگ میری زندگی میں طیار ہو جاویں جو اسلام کی خدمت کر سکیں۔ہم تو پابگور ہیں اور اگر اور طیار نہ ہوں تو پھر مشکل پیش آتی ہے۔میرا مدعا اس قدر ہے کہ آپ لوگ تدبیر کریں خواہ کسی پہلو پر صاد کیا جاوے مگر یہ ہو کہ چند سال میں ایسے نوجوان نکل آویں جن میں عملی قابلیت ہو اور وہ غیر زبان کی واقفیت بھی رکھتےہوں اور پورے طور پر تقریر کر کے اسلام کی خوبیاں دوسروں کے ذہن نشین کر سکیں۔میرے نزدیک غیر زبانوں سے اتنی ہی مراد نہیں کہ صرف انگریزی پڑھ لیں۔نہیں اور زبانیں بھی پڑھیں اور سنسکرت بھی پڑھیں تاکہ ویدوں کو پڑھ کر ان کی اصلیت ظاہر کر سکیں۔اس وقت تک وید گویا مخفی پڑے ہوئے ہیں۔کوئی ان کا مستند ترجمہ نہیں۔اگر کوئی کمیٹی ترجمہ کر کے صاد کر دے تو حقیقت معلوم ہو جاوے۔اصل بات یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اسلام کو ان لوگوں اور قوموں میں پہنچایا جاوے جو اس