ملفوظات (جلد 7) — Page 75
کے مذہب سے بہتر نہیں تو ان ہی جیسا ضرور ہے۔پرائمیر جو کہ میں ارسال کروں گا۔اگر آپ اس کے جواب میں مجھے کچھ زیادہ معلومات اپنے نئے مسیح کی نسبت اور خصوصیت سے کشمیر میں مسیح کی قبر کے ثبوت کی نسبت ارسال کریں گے تو میں بہت ہی مشکور ہوں گا۔آپ کا سچا دوست پال کلاتھیوس حضرت اقدسؑ نے اس پر فرمایا کہ در اصل اب عیسویت سے دست برداری دنیا میں شروع ہوگئی ہے اور اس مذہب کو جلا دینے والی آگ بھڑک اٹھی ہے۔آگ کا دستور ہے کہ وہ اوّل ذرا سی شروع ہو کر پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے۔یہی حال اب عیسائیت کا ہوگا۔۱ ۲۸؍جنوری ۱۹۰۵ء حضرت شہزادہ عبد اللطیف کے مریدین حضور علیہ السلام فجر کے وقت تشریف لائے تو چند ایک احباب نے شرف بیعت حاصل کیا۔بعد ازاں حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب شہید علیہ الرحمۃ کی جماعت مریدین کا تذکرہ ہوتا رہا کہ اب بعض لوگ ان میں سے آ آ کر بیعت کرتے جاتے ہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے اظہار مسرت فرمایا کیونکہ اس طریق سے ان کے وحشیانہ خیالات کی خود بخود اصلاح ہو رہی ہے۔۲ یکم فروری ۱۹۰۵ء (بوقتِ ظہر) دو الہامات اور ایک رؤیا ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو ذیل کے الہامات و رؤیا سنائے۔