ملفوظات (جلد 7) — Page 74
۱۵؍جنوری ۱۹۰۵ء (بوقتِ ظہر) الہامات کو ترتیب دینے کی ہدایت ظہر کے وقت مقدمہ کی پیشگوئی کا اپنے الفاظ پر پورے ہونے کا ذکر رہا کہ خدا تعالیٰ نے جو جو بات جس جس طرح الہام فرمائی ویسی ہی پوری ہو کر رہی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ان سب الہاموں کو الگ الگ ترتیب دے کر اور کچھ لکھ کر پھر دنیا کے سامنے پیش کیا جاوے تو امید ہے کہ کسی کی ہدایت کا موجب ہوں۔۱ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۵ء عیسائیت کا مستقبل مفتی محمد صادق صاحب نے ولایت سے آیا ہوا ایک خط پیش کیا۲ میں نے اورمیری بیوی نے آپ کی مرسلہ کتب کو سوائے اس حصہ کے جو کہ عربی یا ہندوستانی (کیونکہ مجھے ٹھیک علم نہیں) خط میں تھا اور جس کے لیے میری زباندانی کی قابلیت سر دست نامکمل ہے بڑی دلچسپی سے پڑھا ہے۔ہمارا تعلق ایک چھوٹے سے گروہ سے ہے جس نے کہ یسوع کے خدائی کے خیال کو استعفیٰ دے دیا ہے اور اسے صرف ایک ہادی خیال کرتا ہے اور اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے لیکن بحمد اللہ کہ ترقی کر رہا ہے جو خیال ہمارا یسوع کی نسبت ہے وہی زوڑشتر، بدھ اور محمد (دائمی برکت اور رحمت خدا کی اس پر نازل ہو) کی نسبت ہے۔ہم ان گستاخ پادریوں کو کسی قسم کی مدد نہیں دیتے جو کہ لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔حالانکہ ان لوگوں کا مذہب پادریوں