ملفوظات (جلد 7) — Page 76
اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْـحَ یُوْسُفَ لَوْ لَا اَنْ تُفَنِّدُوْنِ۔۲۔اِنِّیْ مَعَ الرُّوْحِ مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ۔رؤیا ایک کاغذ دکھایا گیا جس میں کچھ سطور فارسی خط میں ہیں اَور سب انگریزی لکھا ہوا ہے۔مطلب جن کا یہ سمجھ میں آیا کہ جس قدر روپیہ نکلتا ہے سب دے دیا جاوے گا۔اس کے بعد سردی کی شدت کا ذکر رہا کہ رات کو برف جم گئی اور اکثر لڑکوں نے اس سے قلفیاں بنا کر کھائیں جس سے اکثر بیمار ہوگئے ہیں۔اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس کا استعمال اس موسم میں بہت مضر ہے۔برکت چاہنا ایک شخص نے بیعت کی اور درخواست کی کہ تبرکًا مجھے کچھ پڑھا دیا جاوے۔جسے میں پڑھتا رہا کروں۔حضور علیہ السلام نے اپنی زبان مبارک سے اسے سورۃ الحمد ساری پڑھادی۔۱ ۸؍فروری ۱۹۰۵ء مالیر کوٹلہ سے ایک معزز رئیس نے لکھا کہ ایک مولوی صاحب اتفاق سے انہیں مل گئے ہیںاس لئے وہ قادیان آکر تحقیق حق چاہتے ہیں۔جواب میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ بے شک وہ آجائیں تحقیق حق کے لئے سائلین کا دروازہ کھلا ہے وہ تحریری سوال کریں جواب تحریری دے دیا جاوے گا۔اس کے لئے یہاں آنا بھی چنداں ضرور نہیں۔ہاں بصورت مباحثہ کوئی امر نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں اصل مقصد ہار جیت ہوتی ہے اس لئے اعلامِ الٰہی کے موافق انجام آتھم میں وہ سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔۲ (بوقتِ ظہر)