ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 62

میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا وغیرہ۔وہ جماعت عرض کرے گی کہ اے ہمارے خدا! ہم نے کب تیرے ساتھ ایسا کیا؟ تب اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میرے فلاں بندہ کےساتھ جو تم نے ہمدردی کی وہ میری ہی ہمدردی تھی۔دراصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم ہے اس اپنے دوست سے خوش ہوگا؟ کبھی نہیں۔حالانکہ اس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیںدی، مگر نہیں اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک گویا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے۔خدا تعالیٰ کو بھی اس طرح پر اس بات کی چڑ ہے کہ کوئی اس کی مخلوق سے سر د مہری برتے۔کیونکہ اس کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔غرض اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے۔میری دانست میں یہی پہلو حقوق العباد کا ہے جو حقوق اللہ کے پہلو کو تقویت دیتا ہے۔جو شخص نوعِ انسان کے ساتھ اخلاق سے پیش آتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔جب انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک کام کرتا ہے اور اپنے ضعیف بھائی کی ہمدردی کرتا ہے تو اس اخلاص سے اس کا ایمان قوی ہوجاتا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نمائش اور نمود کے لیے جو اخلاق برتے جائیں وہ اخلاق خدا کے لیے نہیں ہوتے اور ان میں اخلاص کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔اس طرح پر تو بہت سے لوگ سرائیں وغیرہ بنا دیتے ہیں ان کی اصل غرض شہرت ہوتی ہے۔اور اگر انسان خدا تعالیٰ کے لیے کوئی فعل کرے تو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرتا اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔میں نے تذکرۃ الاولیاء میں پڑھا ہے کہ ایک ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ بارش ہوئی اور کئی روز تک رہی۔ان بارش کے دنوں میں میں نے دیکھا کہ ایک اَسی برس کا بوڑھا گبر ہے جو کوٹھے پر چڑیوں کے لیے دانے ڈال رہا ہے۔میں نے اس خیال سے کہ کافر کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں اس سے کہا