ملفوظات (جلد 7) — Page 63
کہ کیا تیرے اس عمل سے تجھے کچھ ثواب ہوگا؟ اس گبر نے جواب دیا کہ ہاں ضرور ہوگا۔پھر وہی ولی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جو میں حج کو گیا تو دیکھا کہ وہی گبر طواف کر رہا ہے۔اس گبر نے مجھے پہچان لیا اور کہا کہ دیکھو ان دانوں کا مجھے ثواب مل گیا یا نہیں؟ یعنی وہی دانے میرے اسلام تک لانے کا موجب ہوگئے۔حدیث میں بھی ایک صحابی کا ذکر آیا ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایامِ جاہلیت میں میں نے بہت خرچ کیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھے ہوگا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا کہ یہ اسی صدقہ و خیرات کا ثمرہ تو ہے کہ تو مسلمان ہوگیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کے ادنیٰ فعلِ اخلاص کوبھی ضائع نہیں کرتا۔اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کی ہمدردی اور خبر گیری حقوق اللہ کی حفاظت کا باعث ہوجاتی ہے۔پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہوجاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے۔ع بنی آدم اعضائے یک دیگراند یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔نہیں میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو، ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ان میں بعض اس قسم کے خیالات بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایک شیرے کے مٹکے میں ہاتھ ڈالا جاوے اور پھر اس کو تلوں میں ڈال کر تِل لگائے جاویں تو جس قدر تل اس کو لگ جاویں اس قدر دھوکہ اور فریب دوسرے لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ان کی ایسی بیہودہ اور خیالی باتوں