ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 61

بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لیے اوّل ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بد ظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے، کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور انس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بُغض، حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لیے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کےلیے یہ تیار نہیں ہوتا۔یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو نہیں کرتے کہ اس کے لیے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکاؤ تو شوربا زیادہ کر لو تاکہ اسے بھی دے سکو۔اب کیا ہوتاہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں، لیکن اس کی کچھ پروا نہیں۔یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہیے کہ وہ کہاں تک ان امور کی پروا کرتا ہے اور کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے ہمدردی اور سلوک کرتا ہے۔اس کا بڑا بھاری مطالبہ انسان کے ذمہ ہے۔حدیث صحیح میں آیا ہے کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔میں پیاسا تھا اور تو نے مجھے پانی نہ دیا۔میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہ کی۔جن لوگوں سے یہ سوال ہوگا وہ کہیںگے کہ اے ہمارے رب! تو کب بھوکا تھا جو ہم نے کھانا نہ دیا۔تو کب پیاسا تھا جو پانی نہ دیا اور کب بیمار تھا جو تیری عیادت نہ کی؟ پھر خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ جو ہے وہ ان باتوں کا محتاج تھا مگر تم نے اس کی کوئی ہمدردی نہ کی۔اس کی ہمدردی میری ہی ہمدردی تھی۔ایسا ہی ایک اور جماعت کو کہے گا کہ شاباش! تم نے میری ہمدردی کی۔میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔