ملفوظات (جلد 7) — Page 46
جوابدہی کو سمجھتا ہےلیکن جو شخص اپنے آپ کو بری الذمہ تصور کرتا ہے وہ دعا کیوں کرے گا۔اس نے تو پہلے ہی سمجھ لیا ہے کہ گناہ دوسرے شخص نے اٹھا لیے ہیں اور اس طرح پر اس کے ذمہ کوئی جوابدہی نہیں تو اس کے دل میں تحریک کس طرح ہوگی؟ اس نے اور شے پر بھروسہ کرلیا ہے اور اس طرح پر اس طریق سے جو دعا کا طریق ہے وہ دور چلا گیا ہے۔۱ غرض ایک عیسائی کے نزدیک دعا بالکل بے سود ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کر سکتا۔اس کے دل میں وہ رقت اور جوش جو دعا کے لئے حرکت پیداکرتا ہے نہیں ہو سکتا۔اسی طرح پر ایک آریہ جو تناسخ کا قائل ہے اور سمجھتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہو سکتی اور کسی طرح پر اس کے گناہ معاف نہیں ہو سکتے وہ دعا کیوں کرے گا؟ اس نے تو یہ یقین کیا ہوا ہے کہ جونوں کے چکر میں جانا ضروری ہے اور بیل، گھوڑا، گدھا، گائے، کتّا، سؤر وغیرہ بننا ہے۔وہ اس راہ کی طرف آئے ہی گا نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔مگر یہ یاد رکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الوہیت پر گرتی ہے