ملفوظات (جلد 7) — Page 47
وراپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لیے قوی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت اور مغفرت چاہتی ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اس کو موت کہہ سکتے ہیں۔جب یہ حالت میسر آجاوے تو یقیناً سمجھو کہ بابِ اجابت اس کے لیے کھولا جاتا ہے اور خاص قوت اور فضل اور استقامت بدیوں سے بچنے اورنیکیوں پر استقلال کے لیے عطا ہوتی ہے یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبردست ہے۔اس زمانہ کے لوگ دعا کی تاثیرات کے منکر ہوگئے ہیں مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت اور حالت سے محض ناواقف ہیں اور اسی وجہ سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے منکر ہوگئے ہیں کیونکہ وہ ان تاثیرات کونہیں پاتے اور منکر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔پھر دعا کی کیا حاجت ہے؟ مگر میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تو نرا بہانہ ہے انہیں چونکہ دعا کا تجربہ نہیں اس کی ۱ تاثیرات پر اطلاع نہیں اس لیے اس طرح کہہ دیتے ہیں۔ورنہ اگر وہ ایسے ہی متوکل ہیں تو پھر بیمار ہو کر علاج کیوں کرتے ہیں؟ خطرناک امراض میںمبتلا ہوتے ہیں تو طبیب کی طرف دوڑے جاتے ہیں۔بلکہ میں سچ کہتا ہوں کہ سب سے زیادہ چارہ کرنے والے یہی ہوتے ہیں۔سید احمد خاں بھی دعا کے منکر تھے۔لیکن جب ان کا پیشاب بند ہوا تو دہلی سے معالج ڈاکٹر کو بلایا یہ نہ سمجھ لیا کہ خود بخود ہی پیشاب کھل جاوے گا۔حالانکہ وہی خدا ہے جس کے ملکوت میں ظاہری دنیا ہے۔جبکہ دوسری اشیاء میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ باطنی دنیا میں تاثیرات نہ ہوں۔۲ جن میں سے دعا ایک زبردست چیز ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قضاء و قدر میں سب کچھ ہے مگر کوئی یہ تو بتائے کہ خدا تعالیٰ نے وہ فہرست کس کو دی ہے جس سے معلوم ہو جاوے۔میں سچ کہتا ہوں کہ ان اسرار پر کوئی فتح نہیں پاسکتا۔ظاہر میںہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص