ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 45

کوئی چھوٹا شرف نہیں ہے۔پس حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حاصل کرنے کے واسطے اوّل یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چلے اور ممکن ہو تدبیر کرو اور بدی سے بچنے کی کوشش کرو۔بد عادتوں اور بدصحبتوں کو ترک کر دو۔ان مقامات کو چھوڑ دو جو اس قسم کی تحریکوں کا موجب ہوسکیں۔جس قدر دنیا میں تدبیر کی راہ کھلی ہے اس قدر کوشش کرو اور اس سے نہ تھکو نہ ہٹو۔دوسرا ذریعہ دعا دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لیے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے۲ وہ دعا ہے اس لیے جس قدر ہو سکے دعا کرو۔یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب اورمفید ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) تم مجھ سے دعاکرو میں تمہارے لیے قبول کروں گا۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیے۔۳ دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نہیں اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہو سکتا ہے۔بلکہ یہ فخر اور ناز صرف صرف اسلام ہی کو ہے دوسرے مذاہب اس سے بکلّی بے بہرہ ہیں۔مثلاً عیسائیوں نے جب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان (جس کو انہوں نے خدا مان لیا) نے ہمارے لیے قربانی دے دی ہے۔انہوں نے اس پر بھروسہ کر لیا اور سمجھ لیا کہ ہمارے سارے گناہ اس نے اٹھا لیے ہیں۔پھر وہ کون سا امر ہے جو اس کو دعا کے لیے تحریک کرے گا۔ناممکن ہے کہ وہ گدازش دل کے ساتھ دعا کرے۔دعا تو وہ کرتا ہے جو اپنی ذمہ واری اور