ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 44

جبکہ قویٰ میں قوت اور طاقت اور دل میں ایک امنگ اورجوش ہوتا ہے۔اس زمانہ میں کوشش کرنا عقلمند کا کام ہے اور عقل اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔۱ پہلا ذریعہ تدبیر اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے (جیسا کہ میں پہلے کئی مرتبہ بیان کرچکا ہوں) اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہوگا۔جو شخص دیدہ دانستہ بد راہ اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقیناً ہلاک ہوگا۔ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل رحم ٹھہر سکتا ہے۔اس لیے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لیے (جس کو اللہ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہاں تک ممکن ہے بد صحبتوں اور بد عادتوں سے پرہیز کریں۔۲ اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہیے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیے۔یاد رکھو تدبیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔اسی سے وہ راہ کھل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے۔جو لوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ ان سے الگ ہوجاتا ہے۔۳ میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفسِ امّارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفسِ امّارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک لوّامہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابلِ قدر تبدیلی پا لیتا ہے کہ یا تو وہ امّارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفسِ امّارہ لوّامہ ہو جاتا ہے۔جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔۱ یہ