ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 35

میں نے چلنے پھرنے کے قابل اپنے آپ کو پایا اور پھر گھر کے آدمیوں کو لے کر باغ تک چلا گیا اور وہاں دس رکعت اشراق نماز کی ادا کیں۔صفات باری تعالیٰ خدا تعالیٰ کی ان صفات ربّ، رحمٰن، رحیم، مالک یوم الدین پر توجہ کی جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ کیسا عجیب خدا ہے۔پھر جن کا ربّ ایسا ہو کیا وہ کبھی نامراد اور محروم رہ سکتا ہے؟ ربّ کے لفظ سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دوسرے عالم میں بھی ربوبیت کام کرتی رہے گی۔جہاں اسباب غیر مؤثر معلوم ہوں وہاں دعا سے کام لے۔۱ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۴ء (بوقتِ ظہر) ایک الہام اور ایک رؤیا حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ذیل کی رؤیا سنائی۔میں نے ایک سفید تہہ بند باندھا ہوا ہے مگر وہ بالکل سفید نہیں ہے۔کچھ کچھ میلا ہے کہ اس اثناء میں مولوی صاحب نماز پڑھانے لگے ہیں اور انہوں نے سورۂ الحمد جہر سے پڑھی ہے اور اس کے بعد انہوں نےیہ پڑھا اَلْفَارِقُ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْفَارِقُاس وقت مجھے یہی معلوم ہوا کہ یہ قرآن شریف میں سے ہی ہے۔اور ایک اور الہام ہوا روزِ نقصاں بر تو نیاید۔آریہ مذہب اور اس کے عقائد حضرت حکیم نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی بعض آریوں نے بہت ہی گندے کلمات قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں لکھے ہیں۔فرمایا کہ ہانڈی میں جب اُبال آتا ہے تو پھر بہت جلدی بیٹھ جایا کرتا ہے۔یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسلام جیسا مذہب جس خدا نے پیش کیا ہے اس کے مقابل پر اور بھی کوئی خدا مانا جا سکتا ہے۔اسلام کا خدا کل کمالات کا مالک ہے اور جبکہ روح اور اس کے خواص