ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 34

دوست سے اگر تم ادنیٰ باتوں میں بد عہدی اور جھوٹ اور عہد شکنی سے کام لو تو وہ تمہیں کبھی عزیز نہیں رکھے گا۔پھر وہ تو ربُّ العالمین اور احکم الحاکمین اور ربُّ العزت ہے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ(البقرۃ:۱۵۶) یعنی ثمرات سے مراد اولاد ہے اور یہ خدا کی طرف سے ابتلا ہوتے ہیں اور یہی انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ہاں یہ باتیں اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے توبہ استغفار سے اس کی کثرت کرو۔اور رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ(الاعراف:۲۴) پڑھا کرو اور اس کی کثرت کرو۔خدا تعالیٰ نعم البدل عطا کرے گا۔خدا کا دامن نہ چھوڑنے والا گنہگار ہو کر بھی بخشا جاتا ہے۔ہاں تعلق توڑنا بُری بات ہے اور یہ زہر قاتل ہے۔پس توبہ استغفار کرو اور نمازوں میں دعائیں کرتے رہو۔اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار ہو۔والسلام۱ بلا تاریخ شہد اور ذیابیطس ذیابیطس کی مرض کا ذکر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سے مجھے سخت تکلیف تھی۔ڈاکٹروں نے اس میں شیرینی کو سخت مضر بتلایا ہے۔آج میں اس پر غور کر رہا تھا تو خیال آیا کہ بازار میں جو شکر وغیرہ ہوتی ہے اسے تو اکثر فاسق فاجر لوگ بناتے ہیں اگر اس سے ضرر ہوتا ہو تو تعجب کی بات نہیں۔مگر عسل(شہد) تو خدا کی وحی سے طیار ہوا ہے۔اس لیے اس کی خاصیت دوسری شیرینیوں کی سی ہرگز نہ ہوگی۔اگر یہ ان کی طرح ہوتا تو پھر سب شیرینی کی نسبت شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ فرمایا جاتا۔مگر اس میں صرف عسل ہی کو خاص کیا ہے۔پس یہ خصوصیت اس کے نفع پر دلیل ہے اور چونکہ اس کی طیاری بذریعہ وحی کے ہے اس لیے مکھی جو پھولوں سے رس چوستی ہوگی تو ضرور مفید اجزا کو ہی لیتی ہوگی۔اس خیال سے میں نے تھوڑے سے شہد میں کیوڑا ملا کر اسے پیا تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بہت فائدہ حاصل ہوا۔حتی کہ