ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 36

سب خود بخود ہیں تو وہ خدا کو کہہ سکتی ہے کہ تیرا مجھ پر کیا حق ہے جو تو مجھ کو کسی قسم کی سزا دے سکے۔خدا شناسی میں ان لوگوں کی حالت دہریوں سے ملتی ہے اور نیوگ میں تو کنجروں کو مات کر دیا ہے۔انہوں نے ہر ایک بات پر اعتراض کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔حالانکہ ایک عارف آدمی اس بات کا ہرگز قائل نہ ہوگا کہ کل اسرارِ الوہیت کو کوئی سمجھ سکے۔مثلاً اس قدر جو مخلوقات موجود ہے اور قسم قسم کے پتھر، بوٹیاں اور اشیاء ہیں کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نے ہر ایک کے خواص پر احاطہ کر لیا ہے اور جو کچھ میں نے معلوم کیا ہے اس سے بڑھ کر اب اور کوئی حکمت الٰہی اس میں ہرگز نہیں ہے۔اس لیے حق کے طالب کو چاہیے کہ وہ بات جس سے ایمان وابستہ ہوتا ہے اختیار کرے اور اسے سمجھے اور دوسری باتوں کے لیے اپنے نقص عقل کو تسلیم کرے۔جوں جوں خدا تعالیٰ بصیرت دے گا توں توں اس کا علم بڑھے گا۔یہ نادانی ہے کہ انسان کے جسم کے اندر جس قدر قویٰ ہیں ان کی حکمت اور خواص پر تو نظر نہ کی جاوے اور بالوں کے ٹیڑھے ہونے یا اور اس قسم کی باتوں پر اعتراض کیا جاوے۔۱ ۲۹؍نومبر ۱۹۰۴ء کسی اہم کام کے لیے نماز توڑنا افریقہ سے ڈاکٹر محمد علی خاں صاحب نے استفسار کیا ہے کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آجاوے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہیے۔اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہوکر ہندوستان واپس کیا گیا ہے۔جواب۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا (یہ ہسپتال کا واقعہ ہے اس لیے فرمایا)۲ کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔