ملفوظات (جلد 7) — Page 311
آنے والے کا جو فیصلہ حضرت عیسیٰ کی اپنی عدالت سے ہوا اس کے خلاف کوئی فیصلہ پیش کرو۔انہوں نے تو ثابت کیا کہ آنے والا بروزی رنگ میں آیا کرتا ہے۔تم کہتے ہو کہ وہ حقیقی مُردے زندہ کر دیا کرتے تھے۔پس اگر یہ سچ ہے تو کیوں انہوں نے ایلیاء کو زندہ نہ کر لیا تاکہ ان کی نبوت مشتبہ نہ ہوتی اور یہودیوں کی قوم تباہ نہ ہوتی۔انہوں نے ملاکی نبی کی پیشگوئی ہی کا تو سوال کیا تھا۔ان کے راہ میں روک اور پتھر وہی امر ہوا نہ کوئی اور۔اس تاویل پر جو حضرت مسیح نے کی تھی وہ راضی نہ ہوئے اور انکار کر کے لعنتی ٹھیرے۔بعض اوقات جب اس دلیل کا نقض ہمارے مخالف نہیں کر سکتے تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محرف مبدّل ہیں۔میں کہتا ہوں کہ محرف مبدّل ہی سہی لیکن تواتر قومی کو کیا کرو گے؟ یہودی اب تک موجود ہیں ان سے پوچھ لو کہ کیا وہ اس امر کے منتظر نہیں ہیں کہ مسیح سے پہلے ایلیا ضرور آئے گا اور عیسائی بھی اس کے قائل۔اگر وہ قائل نہ ہوتے تو ایلیاء کا بروز یوحنا کو کیوں تسلیم کرتے؟ پس یہودی اور عیسائی باوجودیکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔مگر اس امر پر بالکل متفق ہیں۔ایسی صورت میں یہ امر بالکل صاف ہوجاتا ہے کہ یہ امور ہمارے زبردست مؤیّد ہیں جیسے یحییٰ کا نام الیاس رکھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا لیکن اگر کوئی کہے کہ اس نام میں حکمت کیا تھی؟ اس کے جواب میں یاد رہے کہ یہود اسی شرارت کی وجہ سے منحرف ہوئے تھے کہ الیاس نہیں آیا۔چنانچہ ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے اس نے اس امر پر بڑا زور دیا ہے بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر قیامت کو ہم سے سوال ہوگا تو ہم ملاکی نبی کا صحیفہ پیش کریں گے کہ اس میں کہاں لکھا ہے کہ مثیل آئے گا؟ پس یہودیوں کے لعنتی اور منحرف ہونے کے لیے یہ ابتلا انہیں آگیا۔اس امت کے لیے سلسلہ موسوی کی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ایک مسیح آئے اور علاوہ بریں چونکہ اس امت کے لیے یہ کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں وہ یہود کے ہمرنگ ہوجائے گی۔چنانچہ بالاتفاق غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ (الفاتـحۃ:۷) میں مغضوب سے مراد یہود لی گئی ہے۔پھر یہ یہودی تو اسی وقت ہوتے جب ان کے سامنے بھی ایک