ملفوظات (جلد 7) — Page 310
عیسیٰ علیہ السلام کی وفات رہا وفات کا مسئلہ وہ ایسا صاف ہے کہ اس پر زیادہ کہنے کی حاجت ہی نہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے قول سے يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ ( اٰلِ عـمران:۵۶) اور حضرت مسیح نے اپنے اقرار سے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ:۱۱۸) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رؤیت سے جبکہ معراج کی رات حضرت عیسیٰ کو حضرت یحییٰ علیہما السلام کے ساتھ اکٹھا دیکھا ثابت کر دیا ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔ورنہ اگر وہ زندہ ہیں تو مُردہ کے پاس رہنے کا کیا تعلق؟ اور اس کے علاوہ صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلا اجماع یہی کیا کہ مسیح فوت ہوگیا۔جیساکہ بار ہا میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی وفات پر تلوار نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آپ کو مُردہ کہے گا تو اس کا سر اڑا دوں گا۔اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( اٰلِ عـمران:۱۴۵)یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر سب رسول وفات پاچکے ہیں۔اب بتاؤ اس میں مسیح یا کسی اور کی کیا خصوصیت ہے؟ کیا حضرت ابو بکرؓ نے کسی کو باہر رکھ لیا تھا اور صحابہؓ کب گوارا کر سکتے تھے کہ وہ کسی اور کو تو زندہ تسلیم کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تجویز کریں کہ آپ نے وفات پائی ہے۔غرض صحابہؓ کا اجماع بھی موت پر مہر کرتا ہے اور پھر عقلِ سلیم تو دور سے اس کو دھکے دیتی ہے۔عام طور پر ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔اگر عقل کے سامنے یہ پیش کریں کہ کانوں سے دیکھتے ہیں تووہ کب اس کو مان لے گی؟ اسی طرح جب آدم سے لے کر اب تک آسمان پر زندہ اسی جسم کے ساتھ جانے کی کوئی نظیر نہیں ملتی تو ہم کیونکر مان لیں کہ مسیح زندہ اور اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلا گیا۔نظیر اگر کوئی ملتی ہے تو وہ ایلیاء کی آمد کی نظیر ہے جس کا وعدہ ملاکی نبی کی کتاب میں کیا گیا تھا اور اس کے آنے کا فیصلہ خود حضرت مسیح نے کیا کہ آنے والا ایلیاء یہی یوحنا ہے۔چاہو تو قبول کرو۔اب اس نظیر سے معلوم ہوتا ہے کہ دوبارہ آمد کے یہی معنی ہوتے ہیں اور ایسے کلمات بطور استعارہ کے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس کے بعد بھی اگر فیصلہ موت میں شک ہو تو پہلے ان دلائل کو توڑو اور پھر