ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 312

عیسیٰ پیش ہوتا اور اسی طرح پر یہ بھی انکار کر دیتے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنے والا عیسیٰ آگیا اور انہوں نے انکار کر دیا۔اس میں میرا کیا قصور ہے؟ یہ تو زیادہ ملزم ہیں۔اس لیے کہ ان کے سامنے ایلیاء والی نظیر موجود تھی۔مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے غور ہی نہیں کیا اور نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔آمین۱ ۲۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء انکسار اور فروتنی ماموروں کا خاصّہ ہے فرمایا۔اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں۔مگر تکبر بہت خطرناک بیماری ہے جس انسان میں یہ پیدا ہوجاوے اس کے لیے روحانی موت ہے۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ بیماری قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔متکبر شیطان کا بھائی ہو جاتا ہے۔اس لیے کہ تکبر ہی نے شیطان کو ذلیل و خوار کیا۔اس لیے مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپؐکا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔یہ ہے نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا اور یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گرد و پیش حاضر رہتے ہیں۔اس لیے اگر کسی کے انکسار و فروتنی اور تحمل و برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے۔بعض مرد یا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمتگارسے ذرا کوئی