ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 307

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (الکوثر:۴) یعنی تجھے تو ہم نے کثرت کے ساتھ روحانی اولاد عطا کی ہے جو تجھے بے اولاد کہتا ہے وہی اَبْتر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی فرزند تو کوئی تھا نہیں۔اگر روحانی طور پر بھی آپؐکی اولاد کوئی نہیں تو ایسا شخص خود بتاؤ کیا کہلاوے گا؟ میں تو اس کو سب سے بڑھ کر بے ایمانی اور کفر سمجھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس قسم کا خیال بھی کیا جاوے۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ (الکوثر:۲) کسی دوسرے نبی کو نہیں کہا گیا۔یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا خاصہ ہے۔آپ کو اس قدر روحانی اولاد عطا کی گئی جس کا شمار بھی نہیں ہو سکتا۔اس لیے کہ قیامت تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔روحانی اولاد ہی کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں کیونکہ آپؐکے انوار و برکات کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جیسے اولاد میں والدین کے نقوش ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اولاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور فیوض کے آثار اور نشانات موجود ہیں۔اَلْوَلَدُ سِـرٌّ لِّاَبِیْہِ۔امت محمدیہ کا شرف صوفیوں نے اس حدیث کو عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ صحیح مانا ہے اور فی الحقیقت یہ صحیح ہے اور یہودیوں پر اسی سے مار پڑتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس امت کو ایسا شرف عطا فرمایا کہ علماء امت کو انبیاء بنی اسرائیل کی مثل ٹھیرایا۔علماء کے لفظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔عالم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہےاِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓـؤُا(فاطر:۲۹) یعنی بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس کے بندوں میں سے وہی عالم ہیں۔ان میں عبودیت تامہ اور خشیت اللہ اس حد تک پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے ایک علم اور معرفت سیکھتے ہیں اور اسی سے فیض پاتے ہیں اور یہ مقام اور درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور آپؐسے پوری محبت سے ملتا ہے۔یہاں تک کہ انسان بالکل آپ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ( اٰلِ عـمران:۳۲) یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت