ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 306

تجویزکی ہیں ان کا نتیجہ کیا ہے؟ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مَسّ شیطان سے وہی پاک ہے اور روح القدس کے سایہ سے پیدا ہوا ہے۔اس میں اس کا کوئی شریک نہیں جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر وہی گئے ہیں اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔پھر وہی آسمان سے اترے گا اور قیامت کے قریب آخری قاضی وہی ہوں گے اور پھر یہ بھی خصوصیت کہ دو ہزار برس ہونے کو آئے وہ اب تک آسمان پر ہیں اور کھانے پینے اور دیگر حوائج انسانی کے محتاج نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو بھوک سے پتھر پیٹ پر باندھ لیتے مگر ان کو اس کی بھی ضرورت نہیں۔کوئی اثر زمانہ کا اس پر نہیں ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کا اثر ہو مسیح پر بالکل نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر شیب اور پیرانہ سالی کے آثار ظاہر ہوں مگر مسیح ان سے بھی محفوظ۔اب سوچو اور بتاؤ کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ یقیناً یہی نتیجہ ہو گا کہ انہیں ساری دنیا سے الگ اور نرالا مانا جاوے یا دوسرے الفاظ میں ان کو خدا ہی کہا جاوے اس لیے کہ ایسی خصوصیتیں یقیناً انہیں خدا بناتی ہیں اور عیسائی اس کو پیش کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار و برکات جاری ہیں غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے کر ان کے الزاموں سے ان کو بری کیا تھا تاکہ ان کو زک دے اور پھر اس سلسلہ محمدیہ کو قائم کر کے بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا فضل جس طرف وہ چاہتا ہے آتا ہے خواہ اسرائیلیوں میں ہو خواہ اسماعیلیوں میں۔اب تو یہودیوں کے ہاتھ میں نرا حسد ہے لیکن اگر وہ دیکھیں کہ ان کے کمالات کا سلسلہ بند نہیںہوا تو پھر نری رسالت سے کیا حسد۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود و عدم وجود معاذ اللہ برابر ہو جائے گا کیونکہ آپ کے کمالات فیوض اور برکات کا سلسلہ بجائے آگے چلنے کے انہیں پر ختم ہوگیا۔مجھے سخت تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت میں کچھ ایسے اندھے ہو رہے ہیں کہ وہ اس کے انجام اور نتائج سے بالکل بے خبر اور بے پروا ہو رہے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر آپ کا سلسلہ آپ سے ہی شروع ہو کر آپ ہی پر ختم ہوگیا تو آپ اَبْتر ٹھہریں گے (معاذ اللہ )۔حالانکہ اللہ تعالیٰ