ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 308

کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس اتباع کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔پس اب اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جب تک انسان کامل متبع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ سے فیوض و برکات پا نہیں سکتا اور وہ معرفت اور بصیرت جواس کی گناہ آلود زندگی اور نفسانی جذبات کی آگ کو ٹھنڈا کر دے عطا نہیں ہوتی۔ایسے لوگ ہیں جو عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کے مفہوم کے اندر داخل ہیں۔غرض ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمایا کہ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ (الکوثر:۲) اور دوسری طرف اس امت کو كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ ( اٰلِ عـمران:۱۱۱) کہا تاکہ یہودیوں پر زد ہو۔مگر میرے مخالف عجیب بات کہتے ہیں کہ یہ امت باوجود خیر الامت ہونے کے پھر شر الامت ہے۔بنی اسرائیل میں تو عورتوں تک کو شرف مکالمہ الٰہیہ دیا گیا مگر اس امت کے مرد بھی خواہ کیسے ہی متقی ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا جوئی میں مریں اور مجاہدہ کریں مگر ان کو حصہ نہیں دیا جائے گا اور یہی جوا ب ان کے لیے خدا کی طرف سے ہے کہ بس تمہارے لیے مہر لگ چکی ہے۔اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور اس پر سوء ظن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور اسلام کی ہتک کیا ہوگی؟ دوسری قوموں کو ملزم کرنے کے لیے یہی تو زبردست اور بے مثل اوزار ہمارے ہاتھ میں ہے اور اسی کو تم ہاتھ سے دیتے ہو۔سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدیہ میں مشابہت پھر ایک اور بات قابل غور ہے اللہ تعالیٰ نے دو سلسلے قائم کئے تھے۔پہلا سلسلہ سلسلہ موسوی تھا۔دوسرا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ یعنی محمدؐی سلسلہ۔اور اس دوسرے سلسلہ کو مثیل ٹھیرایا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مثیل موسیٰ کہا گیا تھا۔توریت کی کتاب استثناء میں یہی لکھا گیا تھا کہ تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا اور قرآن شریف میں یہ فرمایا اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا(المزمل:۱۶) یعنی بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے۔اسی طرح یہ