ملفوظات (جلد 7) — Page 305
لعنت کے مفہوم سے بے خبر ہیں۔اگر ان کو پہلے خبر ہوتی کہ لعنت کا یہ مفہوم ہے تو کبھی نہ کہتے۔میں نے فتح مسیح کو لکھا کہ لعنت کا مفہوم تو یہ ہے کہ ملعون راندہ درگاہ ہو اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو اور شیطان سے جا ملے۔اب بتاؤ کہ تم مسیح کے لیے یہ لفظ تجویز کرتے ہو؟ تو آخر وہ جواب نہ لکھ سکا۔اور حقیقت میں اس کا جواب ہے ہی نہیں۔انہوں نے غلطی سے لعنت کے مفہوم سے بے خبر رہ کر یہ لفظ ان کے لیے تراش لیا۔اب جو خبر ہوئی تو فکر پڑی کہ کیا کیا جاوے۔۱ اسی طرح پر اگر یہ لوگ امتی کے مفہوم پر نظر ڈالیں اور غور کریں تو غلطی نہ کھائیں۔کیونکہ امتی کے معنے یہی ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان و برکات سے مستفیض ہو اور ترقی کرے۔لیکن جس کے لئے یہ کہتے ہیں وہ تو پہلے ہی پیغمبر ہے۔اس کو کونسا موقع ملا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفاضہ کرے۔مسیح موعود کی نبوت پھر نبی کے لفظ پر بھی بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعویٰ نبوت ہے۔میں کہتا ہوںیہ تو نری لفظی نزاع ہے نبی تو خبر دینے والے کو کہتے ہیں اب جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مخاطبات اور مکالمات ہوتے ہوں اس کا کیا نام رکھا جاوے گا۔اور یہ نبوت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی طفیل اور اتباع کا نتیجہ ہے۔میں اس کو کفر اور لعنت سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفاضہ کئے بغیر کوئی شخص نبوت کے چشمہ سے حصہ لیتا ہے اور مستقل نبوت کا مدعی ہے۔یہ نرے دھوکے ہیں جو ان لوگوں کو لگے ہوئے ہیں اور بعض باوجودیکہ اس امر کو بخوبی سمجھتے ہیں لیکن جہلاء اور عوام کو بھڑکانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں تاکہ وہ میری کتابوں سے بیزار ہوجائیں اور انہیں پڑھ کر فائدہ نہ اٹھا سکیں۔مسیح علیہ السلام کے لیے تجویز کردہ خصوصیات کاش یہ لوگ سمجھتے کہ انہوں نے حضرت مسیح کے لیے جو خصوصیتیں