ملفوظات (جلد 7) — Page 304
مانتے ہو کہ اس کو جو کچھ دیا جائے گا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک امتی ہونے اور آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نصیب ہوگا یا پہلے سے انہیں دیا گیا ہے؟ یہ مانتے ہیں کہ وہ توریت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا متبع تھا۔پھر یہ تو توریت کا فخر ہوا نہ کہ قرآن مجید کا۔پھر کیسی بیہودگی ہے کہ ایسا عقیدہ رکھا جاوے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ہتک شان کا موجب ہو۔اس لیے یہ ضرور ہے کہ آنے والا مسیح اسی امت سے ہو اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے برکت اور تعلیم پائے اور آپ ہی کے فیض اور ہدایت سے روشنی حاصل کرے۔امتی کی حقیقت میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے مخالف اس موقع پر چالاکی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ آنے والا عیسیٰ امتی ہوگا۔یہ مصیبت انہیں بخاری اور مسلم سے آئی کیونکہ اس میں اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور اَمَّکُمْ مِنْکُمْ لکھا ہوا ہے۔اس لیے حضرت عیسیٰ کو امتی بناتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ امتی تو وہ ہوتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے بغیر گمراہ تھا جو رشد اور سعادت اس نے پائی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور تعلیم سے پائی۔مگر یہ وہ تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے گمراہ تھے اور اب بھی گمراہ ہیں۔جس وقت آئیں گے اس وقت آپ کی ہدایت اور تعلیم پر عمل کرنے سے وہ درجہ اور عزت انہیں ملے گی۔پھر اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ کا مفہوم اس صورت میں تو درست نہ ٹھیرا۔افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں نے قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے اور وہ جو حَکم ہو کر آیا تھا اس کا انکار کر دیا۔پھر ان کو سمجھ آوے تو کیونکر۔اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ صاف طور پر یہی ظاہر کرتا تھا کہ آنے والا امام تم میں سے ہی ہوگا مگر یہ اس پر راضی نہیں ہوتے۔یہ امت کو شر الامم اور یہودی بنا کر تو خوش ہو جاتے ہیں لیکن مسیح اور امام کا آنا اس امت سے تسلیم نہیں کرسکتے!!! اب یا تو حضرت مسیح کی نسبت یہ اقرار کریں کہ وہ گمراہ ہیں (معاذ اللہ) جیسا کہ عیسائیوں نے اقرار کر لیا کہ وہ ملعون ہیں (نعوذ باللہ)۔عیسائیوں نے لعنتی تو ان کو کہہ دیا مگر