ملفوظات (جلد 7) — Page 289
اور فقیروں کے عجیب عجیب حالات لکھے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ افسوس ہے بڑی ابتری پھیل گئی ہے کیونکہ یہ فقیر جو اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں وہ فقیر اللہ نہیں ہیں بلکہ فقیر الخلق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہر حرکت و سکون، لباس خور و نوش اور کلام میں حکمت (پر) عمل کرتے ہیں۔مثلاً کپڑوں کے لیے وہ دیکھتے ہیں کہ اگر ہم عام غریبوں کی طرح گزی گاڑھے کے کپڑے پہنیں تو وہ عزت نہ ہوگی جو امراء سے توقع کی جاتی ہے وہ ہم کو کم حیثیت اور ادنیٰ درجہ کے لوگ سمجھیں گے۔لیکن اگر اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنتے ہیں تو پھر وہ ہم کو کامل دنیادار سمجھ کر توجہ نہ کریں گے اور دنیا دار ہی قرار دیں گے اس لیے اس میں یہ حکمت نکال لی کہ کپڑے تو اعلیٰ درجہ کے اور قیمتی اور باریک لے لیے لیکن ان کو رنگ دے لیا جو فقیری کے لباس کا امتیاز ہوگئے۔اسی طرح حرکات بھی عجیب ہوتی ہیں مثلاً جب بیٹھتے ہیں تو آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں اور اس حالت میں لب ہل رہے ہیں گویا اس عالم ہی میں نہیں ہیں حالانکہ طبیعت فاسد ہوتی ہے۔نمازوں کا یہ حال ہے کہ بڑے آدمیوں سے ملیں تو بہت ہی لمبی لمبی پڑھتے ہیں اور بطور خود سرے سے ہی نہ پڑھیں۔ایسا ہی روزوں میں عجیب عجیب حالات پیش آتے ہیں مثلاً یہ ظاہر کرنے کےلیے کہ نفلی روزے ہم رکھتےہیں وہ یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ جب کسی امیر کے ہاں گئے اور وہاں کھانے کا وقت آگیا اور کھانا رکھا گیا تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کھائیے مجھے کچھ عذر ہے۔اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہوئے کہ مجھے روزہ ہے۔اس طرح پر وہ گویا اپنے روزوں کو چھپاتے ہیں اور در اصل اس طرح پر ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ظاہر کریں کہ ہم نفلی روزے رکھتے ہیں۔غرض انہوں نے اپنے زمانہ کے فقراء کے اس قسم کے بہت سے گند لکھے ہیں اور صاف طور پر لکھا ہے کہ ان میں تکلفات بہت ہی زیادہ ہیں۔ایسی حالت اس زمانہ میں بھی قریب قریب واقع ہوگئی ہے۔جو لوگ ان پیروں اور پیر زادوں کے حالات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ قسم قسم کے تکلفات اور ریاکاریوں سے کام لیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اسی سے امید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے لیے درست کرتا ہے اور اس طرح پر درست