ملفوظات (جلد 7) — Page 290
کرتا ہے جس طرح پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور ہدایت کرتا ہے لیکن جو شخص مخلوق سے ڈرتا اور مخلوق سے امید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو مخلوق کےلیے درست کرتا ہے۔خدا والوں کو مخلوق کی پروا نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے مرے ہوئے کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔اس لیے وہ ان بلاؤں میں نہیں پھنستے۔۱ اور در اصل وہ ان کو کیا کرے۔اللہ تعالیٰ خود اس کے ساتھ ہوتا ہے اور وہی اس کی تائید اور نصرت فرماتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ خدا اپنی مخلوق کو خود اس کے ساتھ کر دے گا۔یہی سِر ہے کہ انبیاء علیہم السلام خلوت کو پسند کرتے ہیں اور میں یقیناً اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ وہ ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتے کہ باہر نکلیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو مجبور کرتا ہے اور پکڑ کر باہر نکالتا ہے۔مامورین اور مرسلین کا استغناء دیکھو موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے مامور کرنا چاہا اور فرعون کی طرف ہدایت اور تبلیغ کی خاطر بھیجنے کی بشارت دی تو انہوں نے عذر شروع کر دیا کہ میں نے ان کا ایک خون کیا ہوا ہے بھائی کو بھیج دیا جاوے۔یہ کیا بات تھی؟ یہ ایک قسم کا استغناء اور اہل عالم سے الگ رہنے کی زندگی کو پسند کرنا تھا۔یہی استغناء ہر مامور اور مرسل کو ہوتا ہے اور وہ اس تنہائی کی زندگی کو بہت پسند کرتاہے اور یہی ان کے اخلاص کا نشان ہوتا ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے لیے منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ان کے دل پر نظر کر کے خوب دیکھ لیتا ہے کہ اس میں غیر کی طرف قطعاً توجہ نہیں ہوتی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور تعمیل امر ہی کو اپنی زندگی اور حیات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔؎ آں کس کہ ترا شناخت جہاں را چہ کند فرزند و عیال و خانماں را چہ کند دیوانہ کنی و ہر دو جہانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہاں را چہ کند