ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 288

میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں شعائر اسلام میں سے نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ امور بطور رسوم ہندوؤں سے لے لئے ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو انہیں سے لی گئیں ہیں جیسے دم کشی وغیرہ۔خوب سمجھو کہ یہ امور اسلام کے بالکل برخلاف ہیں اور ان سے کوئی بھی مطلب اور مراد حاصل نہیں ہو سکتی۔اصل غرض تو انسان کی یہ ہونی چاہیے تھی کہ دل پاک ہوجاوے اور ہر قسم کے گند اور ناپاک مواد جو روح کو تباہ کرتے ہیں دور ہوجاتے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فیضان اور برکات نازل ہونے لگیں۔اگر یہ امر حاصل نہیں تو پھر نرے تکلفات کو لے کر کیا کرو گے؟ تمہارا مقصود ہمیشہ یہی ہونا چاہیے کہ جس طرح ممکن ہو دل صاف ہو جاوے اور عبودیت کا منشا اور مقصد پورا ہو اور خطرناک زہر جو گناہ کی زہر ہے جس سے انسان کی روح ہلاک ہو جاتی ہے اس سے نجات ملے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک صاف اور سچا تعلق پیدا ہو جاوے مگر یہ باتیں تکلف سے حاصل نہیں ہوسکتی ہیں۔ان کے حصول کا ذریعہ تو وہی اسلام ہے جس میں سادگی ہے۔یقیناً یاد رکھو کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے ایسی سادگی رکھی ہے کہ اگر دوسری قوموں کو اس کی حقیقت پر اطلاع ہو تو وہ اس کی سادگی پر رشک کریں۔ایک سچے مسلمان کےلیے کچھ ضرور نہیں کہ ہزار دانہ کی تسبیح اس کے ہاتھ میں ہو اور اس کے کپڑے بھگوے یا سبز یا اَور کسی قسم کے رنگین ہوں اور وہ خدا رسی کے لیے دم کشی کرے یا اَور اسی قسم کے حیلے حوالے کرے۔اس کے لیے ان امور کی ہرگز ہرگز ضرورت نہیں اس لیے کہ یہ سب امور زائدہ ہیں اور اسلام میں کوئی امر زائد نہیں ہوتا۔ہاں یہ سچ ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ تم اندرونی طور پر بڑی بڑی ترقیاں کرو اور اپنے اندر خصوصیتیں پیدا کرو۔بیرونی خصوصیتیں نری ریاکاریاں ہیں اور ان کی غرض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ لوگوں پر ظاہر کیا جاوے کہ ہم ایسے ہیں اور وہ رجوع کریں۔حضرت امام غزالی کے زمانہ کے پیر زادے اور فقراء امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانہ کے پیر زادوں