ملفوظات (جلد 7) — Page 253
یہاں نہ صرف ان کی قبر ہی ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کے بعض دوستوں کی قبریں بھی اسی جگہ ہیں اوّل یوز آسف کا نام ہی اس پر دلالت کرتا ہے۔اس کے علاوہ چونکہ وہ اپنے وطن میں باغی ٹھیرائے گئے تھے۔اس لیے اس گورنمنٹ کے تخت حکومت میں کسی جگہ رہ نہ سکتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کر کے پسند کیا کہ شام جیسا سرد ملک ہی ان کے لیے تجویز کیا جہاں وہ ہجرت کر کے آگئے اور یہودیوں کی دس تباہ شدہ قومیں جن کا پتہ نہیں ملتا تھا وہ بھی چونکہ یہاں ہی آباد تھیں اس لیے اس فرض تبلیغ کو ادا کرنے کے لیے بھی یہاں ان کا آنا ضروری تھا۔اور پھر یہاں کے دیہات اور دوسری چیزوں کے نام بھی بلاد شام کے بعض دیہات وغیرہ سے ملتے جلتے ہیں۔(اس موقع پر مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کی حضور کاشیر کا لفظ خود موجود ہے۔یہ لفظ اصل میں کاشیر ہے۔م تو ہم لوگ ملا لیتے ہیں۔اصلی کشمیری کاشیر بولتے ہیں اور وہ کاشر کہلاتے ہیں۔اور آشیر عبرانی زبان میں ملک شام کا نام ہے اور ک بمعنے مانند ہے۔یعنی شام کی مانند۔پھر اور بہت سے نام ہیں۔ایڈیٹر) حضرت نے فرمایا کہ وہ سب نام جمع کرو تاکہ ان کا حوالہ کسی جگہ دیا جاوے۔اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ اکمال الدین جو پرانی کتاب ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ انیس سو برس کا ایک نبی ہے۔پھر کشمیریوں کے رسم و رواج وغیرہ یہودیوں سے ملتے ہیں۔برنیئر فرانسیسی سیاح نے بھی ان کو بنی اسرائیل ہی لکھا ہے۔اس کے علاوہ تھوما حواری کا ہندوستان میں آنا ثابت ہے۔(اس مقام پر مفتی صاحب نے عرض کی کہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ جب حضرت مریم بیمار ہوئیں تو انہوں نے تھوما سے جو اس وقت ہندوستان میں تھا ملنا چاہا۔چنانچہ ان کے تابوت کو ہندوستان میں پہنچایا گیا اور وہ تھوما سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور اس کو برکت دی اور پھر تھوما نے اس کا جنازہ پڑھا۔اس ذکر پر کہا گیا کہ کیا تعجب ہے اگر فی الحقیقت یہ ایک ذریعہ اختیار کیا گیا ہو بیٹے کے پاس آنے کا۔اس کے متعلق مختلف باتیں ہوتی رہیں۔)