ملفوظات (جلد 7) — Page 254
فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ پر ایک اعتراض کا جواب مندرجہ بالا سلسلہ کلام میں آپ نے فرمایا کہ ہم جب مسیح کی موت کے لیے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المآئدۃ:۱۱۸) پیش کرتے ہیں تو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام اگر واقعہ صلیب کے بعد کشمیر چلے آئے تھے تو پھر ان کو بجائے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کے یہ کہنا چاہیے تھا کہ جب تو نے مجھے کشمیر پہنچا دیا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض ایک سفسطہ ہے۔یہ سچ ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور موقع پاکر وہ وہاں سے کشمیر کو چلے آئے۔لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کا حال تو پوچھا نہیں۔وہ تو ان کی اپنی امت کا حال پوچھتا ہے۔مخالف تو بدستور کافر کذاب تھے۔دوسرے یہاں مسیح علیہ السلام نے اپنے جواب میں یہ بھی فرمایا ہے مَا دُمْتُ فِیْھِمْ(المآئدۃ:۱۱۸) میں جب تک ان میں تھا۔یہ نہیں کہا مَا دُمْتُ فِیْ اَرْضِھِمْ۔مَا دُمْتُ فِیْھِمْ کا لفظ تقاضا کرتا ہے کہ جہاں مسیح جائیں وہاں ان کے حواری بھی جائیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کا ایک مامور و مرسل ایک سخت حادثہ موت سے بچایا جاوے اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے اذن سے ہجرت کرے اور اس کے پیرو اور حواری اسے بالکل تنہا چھوڑ دیں اور اس کا پیچھا نہ کریں۔نہیں بلکہ وہ بھی ان کے پاس یہاں آئے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ یک دفعہ ہی سارے نہ آئے ہوں بلکہ متفرق طور پر آگئے ہوں۔چنانچہ تھوما کا تو ہندوستان میں آنا ثابت ہی ہے اور خود عیسائیوں نے مان لیا ہے۔اس قسم کی ہجرت کے لیے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی نظیر موجود ہے۔حالانکہ مکہ میں آپ کے وفادار اور جاں نثار خدام موجود تھے۔لیکن جب آپ نے ہجرت کی تو صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے لیا۔مگر اس کے بعد جب آپ مدینے پہنچ گئے تو دوسرے اصحاب بھی یکے بعد دیگرے وہیں جا پہنچے۔لکھا ہے کہ جب آپ ہجرت کر کے نکلے اور غار میں جا کر پوشیدہ ہوئے تو دشمن بھی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے ان کی آہٹ پاکر حضرت ابو بکرؓ گھبرائے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا (التوبۃ:۴۰) کہتے ہیں کہ وہ نیچے اتر کر اس کو دیکھنے بھی گئے۔مگر خدا کی قدرت ہے کہ غار