ملفوظات (جلد 7) — Page 234
پس اگر ایسی ہی حالت ہو تو پھر ایسے حج سے کیا فائدہ؟ حج میں قبولیت ہو کیونکر؟ جبکہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں ان کو تو ادا کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس:۱۰) فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ( اٰل عـمران: ۹۳) یعنی تم ہرگز ہرگز اس نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جاوے اور وہ کہے کہ اچھا اس کو مَنس دیتے ہیں۔۱ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سڑی بُسی روٹیاں جو کسی کام نہیں آسکتی ہیں فقیروں کو دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے۔وہ تو صاف طور پر کہتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیارے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لیے خرچ نہ کرو۔(اس موقع پر ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بعض فقیر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی باسی روٹی دے دو۔پھٹا پرانا کپڑا دے دو۔وہ مانگتے ہی پرانا اور باسی ہیں۔) فرمایا۔کیا تم نئی دے دو گے؟ وہ کیا کریں جانتے ہیں کہ کوئی نئی نہیں دے گا اس لیے وہ ایسا سوال کرتے ہیں۔جہاں تک ہو سکے مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کرو۔یاد رکھو شریعت کے دو ہی قسم کے حقوق ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد۔مگر میں جانتا ہوں اگر کوئی بد قسمت نہ ہو تو حقوق اللہ پر قائم ہونا سہل ہے اس لیے کہ وہ تم سے کھانے کو نہیں مانگتا اور کسی قسم کی ضرورت اسے نہیں وہ تو صرف یہی چاہتا ہے کہ تم اسے وحدہٗ لاشریک خدا سمجھو۔اس کی صفات کاملہ پر ایمان لاؤ اور اس کے مرسلوں پر ایمان لا کر ان کی اتباع کرو۔لیکن حقوق العباد میں آکر مشکلات پیدا ہوتی ہیں جہاں نفس