ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 233

ہوگا کہ اس کو خرچ کیا جاوے۔اس وقت تلوار کا جہاد تو باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی گورنمنٹ دی ہے جس نے ہر ایک قسم کی مذہبی آزادی عطا کی ہے۔اب قلم کا جہاد باقی ہے اس لیے اشاعت دین میں ہم اس کو خرچ کر سکتے ہیں۔موجودہ مسلمانوں کی حالت مسلمانوںکی عام حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ہر ایک قسم کی علمی اور عملی کمزوریاں ان میں آگئی ہیں۔ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔جرائم پیشہ والے کثرت کے ساتھ مسلمان ہیں۔جیل خانوں میں جا کر دیکھو جس قدر شدید اور سنگین جرائم ہیں ان کے مرتکب مسلمان نظر آئیں گے۔اب یہ کس قدر عار کی بات ہے۔غرباء سے ہمدردی اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تلقین زکوٰۃ کیا ہے؟ تُؤْخَذُ مِنَ الْاُمَرَاءِ وَ تُرَدُّ اِلَی الْفُقَرَاءِ۔امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی تھی۔اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔امراء پر یہ فرض ہے کہ وہ ادا کریں۔اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جاوے۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہو تو پروا نہیں اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے میں اس کے بیان کرنے سے نہیں رک سکتا۔اگر کسی کا ہمسایہ فاقہ میں ہو تو اس کے لیے شرعاً حج جائز نہیں۔مقدم ہمدردی اور اس کی خبرگیری ہے کیونکہ حج کے اعمال بعد میں آتے ہیں مگر آجکل عبادات کی اصل غرض اور مقصد کو ہرگز مد نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ عبادات کو رسوم کے رنگ میں ادا کیا جاتا ہے اور وہ نری رسمیں ہی رہ گئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں حاجیوں کے متعلق بدظنیاں پیدا ہوئی ہوئی ہیں۔کہتے ہیں ایک اندھی عورت بیٹھی تھی کوئی شخص آیا اور اس کی چادر چھین کر لے گیا وہ عورت چلائی کہ بچہ! حاجیا! میری چادر دے جا۔اس نے اس کو پوچھا کہ مائی تو یہ تو بتا کہ یہ کیونکر تجھے معلوم ہوا کہ میں حاجی ہوں۔اس نے کہا تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے کام حاجی ہی کرتے ہیں