ملفوظات (جلد 7) — Page 232
نہیں ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہوگیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوٰۃ بھی نہیں دیتے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہیں اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔اول یہ کہ زکوٰۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق نہ تھا اسے لیا گیا۔۱ جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتا ہے یک مشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں۔میں نے جو فتویٰ دیا ہے وہ عام نہیں ہے ورنہ سود کا لینا اور دینا دونو حرام ہیں۔مگر اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جبکہ مالی ترقی کے ذریعے پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا روپیہ اسلام کے کام میں لگنا حرام نہیں ہے۔قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔یہ بھی یاد رکھو جیسے سود اپنے لیے درست نہیں کسی اورکو اس کا دینا بھی درست نہیں۔ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا درست ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ وہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ ہو۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہو رہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو اس وقت محض اس خیال سے رک جانا کہ یہ گولی بارود مال حرام ہے ٹھیک نہیں۔۲بلکہ مناسب یہی