ملفوظات (جلد 7) — Page 231
الہام ہم کو بتلائی تھی۔شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی کہ اس دن میں بھی اسی جگہ تھا اور اس واقعہ کا گواہ ہوں۔۱ (قبل دوپہر) بینکوں کا سود اشاعت اسلام کے لیے خرچ کرنا جائز ہے جب سے حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت ناساز ہوئی ہے اور نیز اکثر احباب رخصت لے کر آئے ہیں۔اعلیٰ حضرت کا معمول سا ہوگیا ہے کہ قبل دوپہر تشریف لا کر مسجد میں بیٹھتے ہیں اور مناسب موقع کلام فرماتے ہیں۔۱۴؍ستمبر کو شیخ نور احمد صاحب جالندھری، چودہری نصر اللہ خان صاحب پلیڈر سیالکوٹ سے آئے ہوئے تھے۔اور بھی کئی احباب بیرونجات سے آئے ہوئے تھے۔شیخ نور احمد صاحب نے بینک کے سود کے متعلق تذکرہ کیا کہ بینک والے ضرور سود دیتے ہیں۔۲ پھر اسے کیا کیا جاوے؟ اس پر فرمایا۔ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی۔کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لیے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔پس سود اپنے نفس کے لیے، بیوی بچوں، احباب، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے لئےبالکل حرام ہے۔۳ لیکن اگر یہ روپیہ خالصۃً اشاعت دین کے لیے خرچ ہو تو ہرج