ملفوظات (جلد 7) — Page 208
روحانی جسم کے ساتھ تھا۔انسان کے جسم دو ہیں۔ایک زمینی اور دوسرا آسمانی جسم ہے۔زمینی جسم کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا(المرسلٰت:۲۶) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جس جسم کے ساتھ ہوا وہ آسمانی جسم تھا۔وہ معراج قابل تعریف نہیں جو عوام مانتے ہیں۔چونکہ ہرشخص اپنی حد تک بات کرتا ہے۔بچہ اس حد تک ہی کہتا ہے جو کھیل تک محدود ہو۔کم علم اپنی حد تک۔اسی طرح یہ لوگ چونکہ اس حقیقت سے محض نا آشنا اور ناواقف تھے۔انہوں نے یہاں تک ہی اس راز کو سمجھا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس کی حقیقت کھول دی ہے اور عوام اس سے محض ناواقف ہیں اس لیے اعتراض کرتے ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ یہ ایسا کشفی رنگ تھا کہ اس کو ہرگز خواب نہیں کہہ سکتے۔یہ سچی بیداری تھی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کمال حاصل ہوا۔اور یہ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کامل درجہ کا تقدس اور تطہر نہ ہو۔اس تقریر کو سن کر شیخ عبد الحق صاحب (یہ اس نو مسلم کا نام ہے) نے کہا یہ تو بالکل سچ ہے۔افسوس یہ مخالف مولوی منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ وہ معراج سے ہی منکر ہیں۔اس پر پھر حضرت اقدس نے سلسلہ تقریر شروع کیا۔اسلام اور دوسرے مذاہب میں مابہ الامتیاز فرمایا۔جو کچھ اسلام کا زیور تھا جس پر اسلام کو ہمیشہ ناز تھا اور جو اسلام اور دوسرے مذاہب میں ما بہ الامتیاز تھا اس سے یہ لوگ بالکل بے خبر ہیں۔اسلام کے سوا جس قدر مذاہب دنیا میں موجود ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے محبوب کی بڑی تعریف کرے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دے کہ ہاں ایک آنکھ اس کی نہیں اور دوسرا ساری تعریفیں کرنے کے بعد کہہ دے کہ اس کی شنوائی نہیں یا ایک ٹانگ نہیں۔غرض کوئی نہ کوئی نقص ضرور مانتے ہیں۔پورے طور پر کامل محبوب تسلیم نہیں کرتے۔اسلام میں یہ خوبی ہے کہ اس نے احسن طور پر خدا تعالیٰ کو دکھایا ہے اور کبھی انسان شرمندہ نہیں ہوسکتا۔جس قسم کا خدا انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے وہ ایسا ہی اسلام میں