ملفوظات (جلد 7) — Page 207
کہ میں نے ویدوں کو ایشور انند سے پڑھا ہے۔حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا کہ آپ کے قبول اسلام کی کیا تقریب ہوئی؟ جواباً کہا کہ اصل تو آپ کی پیشگوئیوں پر میری نظر تھی اور اس کے بعد دیوریا کے مباحثہ میں مجھ پر اسلام کی سچائی واضح ہوگئی اور میں مسلمان ہوگیا۔معراج کی حقیقت اس کے بعد انہوں نے سوال کیا کہ معراج کے متعلق حضور کی کیا رائے ہے؟ کیا وہ جسمانی تھا یا روحانی؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فرمائی۔فرمایا۔جب تک انسان بے خبر ہوتا ہے اس کی باتیں نری اٹکلیں ہی ہوتی ہیں۔ایسا ہی معراج کے متعلق لوگوں کا حال ہے۔وہ اس کی حقیقت اور اصلیت سے بے خبر ہیں۔ہم تو معراج کو بالکل بیداری تسلیم کرتے ہیں۔ہاں ایک بیداری دنیاداروں کی ہے اور ایک بیداری عارفوں، صادقوں، نبیوں اور خدا رسیدہ لوگوں کی بیداری ہوتی ہے اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور تمام صادقوں اور عارفوں کے سردار ہیں اس لحاظ سے یہ مرتبہ بھی آپ کا سب سے بڑھا ہوا ہے۔معراج ایک کشفی معاملہ تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ کشف دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک کشف ایسا ہوتا ہے کہ اس میں غیبتِ حس زیادہ ہوتی ہے۔دوسرا کشف ایسا ہوتا ہے کہ وہ بالکل بیداری کے رنگ میں ہوتا ہے اور دراصل ہوتی ہی بیداری ہے۔اس قسم کے کشف کو خواب کبھی کہہ ہی نہیں سکتے بلکہ ایسے کشف کو خواب کہنا ایسی غلطی ہے جیسے کوئی دن کو رات کہہ دے۔اس حالتِ کشف میں صاحبِ کشف وہ دیکھتا ہے جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے اور وہ اسرار مشاہدہ کرتا ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتے۔اس بیداری میں (جو عام لوگوں کی حالت ہوتی ہے) اس بیداری کے مقابلہ میں صدہا پردے اور حجاب ہیں۔اگر اس کو اندھا کہیں تو زیادہ مناسب ہے اور اگر بہرہ کہیں تو موزوں ہے۔لیکن اس کشفی بیداری میں اعلیٰ درجہ کی بینائی اور شنوائی عطا ہوتی ہے۔جس میں صاحب کشف وہ حالات دیکھتا ہے جو کسی نے نہ دیکھے ہوں اور وہ باتیں سنتا ہے جو کبھی نہ سنی ہوں۔پس اسی قسم کی بیداری کے ساتھ وہ معراج تھا اور ایک لطیف اور